افغانستان میں کسی گیم کا حصہ نہیں ‘ امداد بند ہونے کے باوجود امریکہ سے تعاون کر رہے ہیں: دفتر خارجہ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر+ ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں متاثرین زلزلہ کی سردست قومی وسائل سے ہی امداد کی جا رہی ہے۔ افغان قیادت کے معاندانہ بیانات کے باوجود پاکستان مثبت طرز عمل ترک نہیں کرے گا۔ افغانستان میں پاکستان کسی گیم کا حصہ نہیں۔ پریس بریفنگ میں ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں استحکام کیلئے پاکستان تمام تر مدد فراہم کرتا رہے گا۔افغانستان میں لشکر طیبہ کے رکن کے پکڑے جانے کے سوال کے جواب میں کہا کہ افغان حکام نے اس ضمن میں پاکستان کو نہ تو کوئی معلومات فراہم کی ہیں اور نہ ہی کسی قسم کا رابطہ کیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا پاک امریکہ تعلقات ہر سطح پر برقرار ہیں تاہم کچھ حل طلب مسائل بھی موجود ہیں۔ نئے لیبر قوانین پر سعودی عرب میں پاکستان کے سفارتکار سعودی حکام سے مکمل رابطے میں ہیں، سعودی حکام کی طرف سے تین ماہ کی مدت کے دوران یہ مسلہ حل کرنے کی کوشش کی جائے گی، بڑی تعداد میں انتخابی مبصرین پاکستان آرہے ہیں جنہیں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ نگران حکومت نے سیاسی بنیادوں پر متعین کئے گئے سفیروں کو کام جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔ نئی سیاسی حکومت ان کے بارے میں حتمی فیصلہ کرے گی۔ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں امریکی امداد بند ہونے کے باوجود تعاون کر رہے ہیں، فنڈز روکنے کیلئے جہاں امریکہ میں کچھ آوازیں اٹھ رہی ہیں وہاں کچھ لوگ ہمارے حق میں بھی بول رہے ہیں، پاکستان بھارت مذاکرات چل رہے ہیں، دو راﺅنڈ ہو چکے ہیں۔ بلوچستان کے زلزلہ متاثرین کے لئے 50ہزار ڈالرز کی امداد پہنچ گئی، امداد پسنی ریڈ کراس کی طرف سے دی گئی۔