لاپتہ افراد کا معاملہ کب تک لے کر بیٹھے رہیں گے‘ اسے حل ہونا چاہئے: سپریم کورٹ

لاپتہ افراد کا معاملہ کب تک لے کر بیٹھے رہیں گے‘ اسے حل ہونا چاہئے: سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+آن لائن) سپریم کورٹ نے خیر الرحمان لاپتہ کیس میں آئی جی خیبر پی کے سے دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے لاپتہ شخص کی بازیابی کا حکم دے دیا ہے۔آن لائن کے مطابق دو رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس تصدق حسین جیلانی نے سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا لاپتہ افراد کا معاملہ کب تک عدالتوں میں لے کر بیٹھے رہیں گے اب یہ معاملات حل ہونے چاہیں۔ لاپتہ خیر الرحمان کی بازیابی تک کیس نہیں نمٹا سکتے۔ قبل ازیں خیبر پی کے حکومت کی طرف سے رپورٹ پیش کی گئی اور عدالت کو بتایا گیا خیر الرحمان کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تاہم کارروائی جاری ہے یہ نوجوان حساس اداروں کے پاس بھی نہیں بظاہر لگتا ہے یہ شخص اپنی مرضی سے گھر سے گیا اس لئے کیس نمٹایا جائے جس پر عدالت نے استدعا مسترد کردی اور کہا لاپتہ شخص بازیاب ہونے تک کیس نہیں نمٹا سکتے اور کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی گئی۔ نمائندہ نوائے وقت کے مطابق سپریم کورٹ نے متفرق لاپتہ افراد مدثر اقبال، محمد زبیر، محمد سعید اور ثقلین مہندی سے متعلق مقدمات کی سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کردی۔ جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت شروع کی تو عدالت عظمیٰ کے حکم کے مطابق آئی جی پنجاب کی ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی ٹیم کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل عمران الحق نے عدالت کو بتایا اس کیس کو دوسرے ایڈیشنل اٹارنی جنرل دیکھ رہے ہیں ان کی والدہ فوت ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے وہ رپورٹ لے کر خود عدالت میں حاضر نہیں ہوئے۔ آمنہ مسعود جنجوعہ نے بتایا سعید احمد اور زبیر احمد کا کیس ایک جیسا ہے چشم دید گواہ عاشق حسین نے دیکھا ہے انہوں نے عدالت میں تین بیان حلفی پیش کئے جس میں محمد غوری، محمد زبیر، محمد سعید کے حوالے سے بتایا گیا تھا انہیں اسلام آباد میں دیکھا گیا ہے جبکہ محمد غوری لکی مروت کے حراستی مرکز میں ہے باقی دو افراد لاپتہ ہیں۔