بھتہ خوری سے متعلق پولیس رپورٹ مسترد‘ رقم سے کون کون مستفید ہوتا ہے : اسلام آباد ہائیکورٹ

بھتہ خوری سے متعلق پولیس رپورٹ مسترد‘ رقم سے کون کون مستفید ہوتا ہے : اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد (اے پی پی+ این این آئی+ آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کی سبزی منڈی سے بھتہ لئے جانے کے حوالے سے پولیس، سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے پیش کی گئی مشترکہ رپورٹ کو مسترد کر تے ہوئے 4 اکتوبر کو جامع رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ بدھ کو جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی عدالت میں ڈپٹی اٹارنی جنرل طارق محمود جہانگیر ی نے دس صفحات پر مبنی رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ کے مطابق پولیس نے انکوائری مکمل کر کے بھتہ خوروں سمیت چار پولیس اہلکاروں اور تین سی ڈی اے ملازمین کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ کئی بھتہ خور ایسے ہیں جنہوںنے ضمانت قبل از گرفتاری کرائی ہوئی ہے جسٹس صدیقی نے رپورٹ کو نامکمل ، ناقص اور غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی ہے کہ ِاس میں بھتہ خوروں کا نام شامل کرنے کے ساتھ ساتھ ان تمام پولیس اہلکاروں، سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ کے ملازمین و افسروں کو بھی بے نقاب کیا جائے جو اس گھناﺅنے اور ’دہشت گردانہ‘ فعل میں برابر کے شریک ہیں۔ بھتہ خوروں کو گرفتار کر کے عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے حکم دیا کہ جن اعلی شخصیات کو بھتہ پہنچایا جاتا ہے اس کی تفصیل بھی عدالت میں پیش کی جائے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے آئی جی اسلام آباد سے استفسار کیا کہ سبزی منڈی کے علاقے سے بھتہ وصول کر کے کسے کسے پہنچایا جاتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور کون کون سی سیاسی شخصیات بھتے کی رقم سے مستفید ہوتی ہیں۔ عدالت نے ان سی ڈی اے افسروں کے نام بھی بتانے کا حکم دیا جن کو تازہ پھل اور سبزیاں مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ سماعت کے دوران صفدر صدیق، طارق صدیق اور سبزی منڈی کے 10 سے زائد دکانداروں کی مقدمے میں فریق بننے کی درخواستیں بھی منظورکر لی گئیں۔ دریں اثناءبہارہ کہو سے تین مبینہ بھتہ خوروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ بھتہ خور بہارہ کہو میں مقامی چھاپہ فروشوں سے پولیس اور انتظامیہ کے نام پر روزانہ بھتہ وصول کرتے تھے۔ مقصود شاہ، فاروق اور رحمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔