قائمہ کمیٹی داخلہ میں چیئرمین کے ڈانٹنے پر حکومتی رکن کا واک آﺅٹ

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز+ آئی این پی) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود نے کمیٹی کے رکن سردار فتح محمد حسنی کی طرف سے ارکان پارلیمنٹ کو دفعہ 144 سے مستثنٰی قرار دینے کا مطالبہ کرنے پر انہیں جھاڑ پلاتے ہوئے کہا۔ یہ ذاتی نوعیت کا مسئلہ ہے کمیٹی میں قومی ایشوز پر بات کی جائے جس پر سینیٹر فتح محمد حسنی نے ناراض ہوتے ہوئے کہا ارکان کمیٹی سے آپ کا رویہ درست نہیں جس کے بعد مذکورہ سینیٹر اجلاس سے واک آﺅٹ کر گئے۔ سردار فتح حسنی نے کہا جب دفعہ 144 کا نفاذ کیا جاتا ہے تو ارکان پارلیمنٹ بھی اپنے ہتھیار ساتھ نہیں رکھ سکتے لہٰذا ارکان پارلیمنٹ کو اس سے استثنٰی دیا جائے۔ اجلاس میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود اور حکومتی سینیٹر سردار فتح محمد حسنی کے درمیان دفعہ 144 کے معاملے پر تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ اجلاس کے بعد سیکرٹری داخلہ نے سردار فتح محمد حسنی کو یقین دہانی کرائی آپ میرے دفتر آ جائیں آپ کو دفعہ 144 سے استثنٰی کی اجازت دے دی جائے گی۔ سیکرٹری داخلہ کے تاخیر سے آنے پر ارکان کمیٹی نے باہمی کا اظہار کیا جس پر سیکرٹری نے معذرت کر لی۔ وزارت داخلہ کی طرف سے بتاےا گےا کہ وزارت خزانہ کی جانب سے فنڈز کے اجراءمےں تاخےری حربوں کے باعث اےف سی کے مالی بحران پر قابو پانے مےں مشکلات کا سامنا ہے جس پر کمےٹی نے آئندہ اجلاس مےں وزارت خزانہ اور اےف بی آر کے حکام کو طلب کر تے ہوئے قرار دیا دہشت گردوں کےخلاف جنگ لڑنی ہے تو اےف سی سمےت ملک کی دےگر فورسز کو درپےش مالی مشکلات کا خاتمہ کرتے ہوئے انہےں جدےد ترےن ہتھےاروں و جنگی ساز و سامان سے لےس کرنا ہوگا،کمےٹی نے اےف سی کے شہداءکے ورثاءاور زخمےوں کا پےکج ملک کی دےگر فورسز کے برابر کرنے کی سفارش کی جبکہ ملک مےں قےام امن کے لئے اےف سی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کا دائرہ کار بلوچستان، سندھ اور پنجاب تک بڑھاےا جائے، آئی جی اےف سی نے انکشاف کےا ستر فےصد فورس کے پاس ہتھےار نہےں، 400 اےف سی اہلکار وی آئی پیےز کی حفاظت پر مامور ہےں۔کمانڈنٹ اےف سی نے بتاےا فورس کے پاس ہتھےاروں اور دےگر جنگی ساز و سامان اور گاڑےوں کی شدےد قلت ہے۔ کمانڈنٹ ایف سی نے بتایا فرنٹیئر کی 25 پلاٹونز کے پاس اسلحہ نہیں۔ دیگر پلاٹونز سے مانگنا پڑ رہا ہے درکار 27 بکتر بند گاڑیوں کی جگہ سات موجود ہیں 23 ہزار سے زائد بلٹ پروف جیکٹس درکار ہیں جبکہ موجودہ 536 ہیں ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں لیکن ہمارے پاس ایک بھی بم ڈسپوزل سکواڈ نہیں جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا عید کے بعد مسائل حل کریں گے۔