دوہری شہریت‘ بیان دے کر تردید کرنا کیا وزیر داخلہ کے منصب کے مطابق ہے: چیف جسٹس‘ رحمن ملک کو 3 ہفتے میں تفصیلات دینے کا حکم‘ حاضری سے مستثنیٰ

دوہری شہریت‘ بیان دے کر تردید کرنا کیا وزیر داخلہ کے منصب کے مطابق ہے: چیف جسٹس‘ رحمن ملک کو 3 ہفتے میں تفصیلات دینے کا حکم‘ حاضری سے مستثنیٰ

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز + ثناءنیوز) سپرےم کورٹ نے وزےر داخلہ رحمن ملک کو دوہری شہرےت والے ارکان اسمبلی سے متعلق تےن ہفتوں مےں تفصےلات رجسٹرار سپرےم کورٹ کے پاس جمع کرانے کی ہداےت کی ہے۔ عدالت نے رحمن ملک کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ دےنے کی درخواست منظور کر لی اور کےس کی سماعت غےر معےنہ مدت تک ملتوی کر دی۔ چےف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی مےں جسٹس جواد اےس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسےن پر مشتمل تےن رکنی بنچ نے ارکان پارلےمنٹ کی دوہری شہرےت کے حوالہ سے کےس کی سماعت کی۔ وزےر داخلہ رحمن ملک نے کہا کہ مےڈےا نے خبر دی ہے کہ مےں نے کوےت جانے کے لئے اجازت مانگی اور سوات چلا گےا۔ درخواست گذار محمود اختر نقوی نے عدالت مےں مےری تذلےل کی، انہیں جےل مےں ہونا چاہئے، ےہ مفرور شخص ہے اسے عدالت آنے کی اجازت نہےں ہونی چاہئے، عدالت اسے بات کرنے کی اجازت دےتی ہے۔ جسٹس جواد اےس خواجہ نے کہا کہ ہم کسی کو عدالت آنے سے نہےں روک سکتے۔ رحمن ملک نے کہا مےں نے دوہری شہرےت کے حوالہ سے کوئی بات نہےں کی۔ چےف جسٹس نے کہا کےا ےہ وزےر داخلہ کے منصب کے مطابق ہے کہ وہ پہلے بےان دے اور پھر اس کی تردےد کرے، اس پر رحمن ملک نے کہا سےاسی بےانات دےنا مےرے فرائض مےں شامل ہے۔ چےف جسٹس نے رحمن ملک کے بےانات پڑھ کر سنائے۔ چےف جسٹس نے رحمن ملک سے کہا آپ نے مےڈےا پر کہا تھا کہ دوہری شہرےت والے ارکان کا رےکارڈ آپ کے پاس ہے۔ رحمن ملک نے کہا الےکشن کمشن نے ارکان پارلےمنٹ سے دوہری شہرےت کے حوالہ سے بےان حلفی مانگا ہے جس کی آخری تارےخ 30 اکتوبر ہے۔ عدالت نے رحمن ملک کو ہداےت کی کہ وہ دوہری شہرےت کے حوالہ سے وزارت داخلہ کو معلومات فراہم کرنے کا حکم دےں۔ رحمن ملک نے کہا انہوں نے متعلقہ حکام کو اس کام پر لگاےا ہوا ہے ابھی رپورٹ نہےں آئی۔ جسٹس جواد اےس خواجہ نے کہا گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان، ڈاکٹر عاصم حسےن، نادر مگسی، بابر غوری، وسےم اختر، عبدالر¶ف صدےقی اور سسی پلےجو کے نام بھی دوہری شہرےت مےں سامنے آئے ہیں، ان کی بھی تحقےقات کرائےں۔ قبل ازےں وزےر داخلہ نے درخواست گذار محمود اختر نقوی کی عدالت مےں موجودگی پر اعتراض کےا تو عدالت نے قرار دےا کہ اگر انہےں کوئی مسئلہ ہے تو درخواست دےں اسے سنا جائے گا۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا بیان خصوصی میسنجر کے ذریعے رات گئے تاخیر سے ملا۔ رحمن ملک نے جواب دیا ہمیں بھی عدالتی احکامات رات دو بجے ملتے ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایسا کونسا حکم ہے جو آپ کو 2 بجے ملا ہو؟ رحمن ملک نے جواب دیا ابھی مجھے نہیں پتہ بعد میں عدالت کوآ گاہ کروں گا۔ آرٹیکل 248 کے تحت صدر، گورنر اور وزرا کو استثنیٰ حاصل ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بہتر ہے آپ اس پر اٹارنی جنرل سے مشورہ کر لیں۔ عمر چیمہ کا نوٹس لیں، ان کی خبر پر ایک وزیر بھی نااہل ہوئیں۔ رحمن ملک نے کہا میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ بیان کی تردید کر دی ہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں میڈیا آزاد ہے، ہمارے خلاف بھی بہت باتیں ہوتی ہیں۔ چیف جسٹس نے رحمن ملک سے کہا آپ کی بات مجھے سمجھ نہیں آرہی۔ سیکرٹری داخلہ کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ سوائے طاہر علی جاوید کے کسی اور رکن پارلیمنٹ کی دوہری شہریت کا معاملہ سامنے نہیں آیا۔