انتہا پسندی اور آمرانہ سوچ کے خلاف جنگ جاری رہے گی‘ کسی کو پارلیمنٹ پر وار کرنے کی اجازت نہیں دینگے: صدر

انتہا پسندی اور آمرانہ سوچ کے خلاف جنگ جاری رہے گی‘ کسی کو پارلیمنٹ پر وار کرنے کی اجازت نہیں دینگے: صدر

اسلام آباد (اے پی پی) پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین و صدر مملکت آصف علی زرداری نے ہر قسم کی انتہا پسندی اور آمرانہ سوچ کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ عوام کی رائے کی نمائندگی کرتے ہوئے آمریت کے خلاف ڈھال ہے، کسی کو پارلیمنٹ پر وار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ملالہ یوسفزئی، کائنات اور شازیہ پر حالیہ بزدلانہ حملہ انتہا پسندوں سے ہمارے طرز زندگی کو خطرات لاحق ہونے کا ثبوت ہے، 18 اکتوبر 2007ءکو بہادر فرزندوں اور بیٹیوں نے جمہوریت کے مقصد اور انتہا پسندی کے خلاف لڑائی میں اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ جمعرات کو شہداءکارساز کی پانچویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں صدرمملکت نے کہا کہ 18 اکتوبر کا دن قوم کے ان ان بہادر فرزندوں اور بیٹیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع ہے جنہوں نے جمہوریت کے مقصد اور انتہا پسندی کے خلاف لڑائی میں اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور صعوبتیں اٹھائیں۔ صدر نے کہا کہ پانچ سال قبل اس روز جب محترمہ بے نظیر بھٹو شہید آمریت اور شدت پسندی کے خلاف جنگ کی قیادت کیلئے جلا وطنی ترک کر کے پاکستان واپس لوٹیں تو ان کے کارواں کو شدت پسندوں نے وحشیانہ حملے کا نشانہ بنایا اس روز ہم ہر قسم کی انتہا پسندی اور آمریت کی جڑیں اکھاڑنے کے ان کے مشن کو جاری رکھنے کا اعادہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آمرانہ سوچ کے خلاف جنگ جاری رہنی چاہیے اور جاری رہے گی، کسی کو پارلیمنٹ پر وار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس بارے میں کسی کو کوئی شبہ یا غلط فہمی نہیں رہنی چاہئے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ انتہا پسند و شدت پسند جو محترمہ بے نظیر بھٹو کی پکار کی طاقت کے سامنے نہیں ٹھہر سکے، مذہب کی آڑ میں ترقی پسند اور جمہوری قوتوں پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ان تمام کے خلاف ڈٹ جانا چاہیے جو پارلیمنٹ کو کھلے عام یا خفیہ طور پر اپنی آمرانہ خواہشات کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ دریں اثنا صدر آصف زرداری سے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے صدر مملکت کو صوبہ میں مجموعی صورتحال بالخصوص امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں جن کا مقصد عوام کا معیار زندگی بلند کرنا اور ان کے لئے سماجی و اقتصادی مواقع پیدا کرنا ہے‘ کے بارے میں آگاہ کیا۔ صدر نے صوبے کے مسائل کے حل کو اولین ترجیح دینے کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لئے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ مزید برآں صدر زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اور برونائی کے درمیان بالخصوص تجارت کے شعبہ میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے یہ بات برونائی کی رائل نیوی کے کمانڈر فرسٹ ایڈمرل داتو سری پہلوان حاجی عبدالحلیم بن حاجی محمد حنیفہ سے ایوان صدر میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ صدر کے ترجمان کے مطابق ملاقات میں پاک برونائی دو طرفہ تعلقات، باہمی تجارت اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون سے متعلق امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ صدر مملکت نے دونوں ممالک کے درمیان پرجوش تعلقات کو اجاگر کیا جو باہمی تعاون اور علاقائی و عالمی امور پر یکساں موقف سے عبارت ہیں۔