پرویز مشرف کیخلاف مقدمہ: سیاسی‘ عسکری قیادت ایک ہی صفحہ پر ہیں

اسلام آباد (محمد نواز رضا/وقائع نگارخصوصی) وفاقی حکومت پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل۔6 کے تحت کارروائی میں سنجیدہ دکھائی دیتی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے پراعتماد لہجے میں سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سیاسی وعسکری قیادت ایک ہی صفحہ پر ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار مارشل لاءلگانے والے جرنیل کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جارہا ہے۔ میاں نوازشریف تیسری بار وزیراعظم منتخب ہوئے تو 12اکتوبر 1999ءاور 3نومبر2007ءکے غیر آئینی اقدامات میں ملوث جرنیلوں میں پریشانی پائی جاتی تھی۔ حکومت مخالف سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ وزیراعظم محمد نوازشریف جنرل پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل۔6 کے تحت کارروائی کی جرات نہیں کریں گے لیکن انہوں نے پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل۔6 کے تحت کارروائی کا آغاز کرکے ان کے منہ بند کردئیے جب نوائے وقت نے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان سے استفسار کیا کہ کیا غیر ملکی مداخلت پر پرویز مشرف کے خلاف کارروائی روک دی جائے گی تو انہوں نے کہا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی پاکستان کی عدلیہ بیرونی دبا¶ کو قبول کریں گی۔
سیاسی و عسکری قیادت