ریلوے لاغر گائے ہے، دودھ دوہنے کے بعد کھال اتارنے کی کوشش میں تباہ کیا گیا: سعد رفیق

اسلام آباد (آن لائن + آئی این پی)  پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہونیوالے قائمہ کمیٹی سینٹ برائے ریلوے کے اجلاس میں وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے ریلوے کو گائے قرار دیتے ہوئے کہا کہ دودھ دوہنے کے بعد لاغر گائے کی کھال بھی اتارنے کی کوشش میں قومی ادارے کو تباہ کر دیا گیا۔ سیاسی و فوجی حکومتیں ریلوے کی تباہی میں برابر کی حصے دار ہیں۔ ذاتی مفادات کی خاطر قومی مفاد کو داؤ پر لگا دیا گیا۔ گیارہ سو سٹیم انجن کے مالک اور ہزاروں خاندانوں کو روزگار رہائش اور رزق فراہم کرنے والے اور ملکی خزانے میں اربوں روپے کا اضافہ کرنیوالا ادارہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ ریلوے کی ہزاروں ایکڑ زرعی، کاروباری، رہائشی زمینوں پر سرکاری اداروں کے علاوہ قبضہ مافیا کا راج ہے۔ بہترین ٹیکنیکل سٹاف اور لوکو موٹو ورکشاپس کے باوجود دوسرے ممالک سے ریلوے انجن منگوا کر ایک طرف ملکی خزانے کا نقصان کیا گیا اور دوسرے طرف ہزاروں ملازمین بغیر کام تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔ ہر سیاسی و فوجی حکومت نے سیاسی و سرکاری مداخلت کے ذریعے محکمہ کا بیڑا غرق کر دیا۔ ریلوے کی بحالی میں وقت درکار ہے۔ لاہور ریلوے دفتر سے ملحقہ زمین کا قبضہ واگزار کرا لیا گیا ہے۔ پورے ملک میں قبضہ مافیا کے خلاف بھرپور کارروائی جاری ہے۔ دس دس کنال کے وسیع و عریض بنگلوں میں رہائش پذیر افسر شاہی سے گھر خالی کروا کر چھوٹے ملازمین کے لئے فلیٹ تعمیر کروائے جائیں گے۔ بزنس ٹرین اور شالیمار ٹرین کے غیر قانونی معاہدے کے تحت ٹھیکیدار سینیٹر ظفر اقبال کو ای سی سی کے ذریعے ریلوے نے خود پارٹی بن کر مالی فائدہ پہنچایا اور 55 کروڑ کے ٹھیکے کو 35 کروڑ میں کم کروا دیا گیا حالانکہ تیل سے لے کر دوسری خدمات تک ریلوے کے ذمے تھیں۔کروڑوں روپے میں فروخت کیا گیا لیکن چالیس سالوں سے ہاؤسنگ سوسائٹی کیلئے رقوم جمع کروانے والے ملازمین کی بیوائیں اور یتیم بچے دربدر ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف کیا کہ ریلوے میں ڈائریکٹر لیگل لاء گریجویٹ نہیں ہے۔ ہائی کورٹ کے ریٹائر جج کی اہلیت کے حامل افسر کو بھرتی کرنے کیلئے اخبار میں اشتہار دے دیا گیا ہے۔ تین ہزار مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود کہ ریلوے کی زمین وفاق کی ملکیت ہے۔ ریلوے کی زمین کے ٹائٹل کا فیصلہ ہی نہیںہو رہا۔ پشاور، کراچی اور لاہور کراچی الیکٹرانک ٹرین کیلئے تخمیہ تین سو ارب کا ہے مختلف ماڈلز پر کام ہو رہا ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا جاپانی امدادی ادارے نے کراچی سرکلر ریلوے کے فنڈز ڈھاکہ منتقل کر دیئے ہیں، جاپانی سفیرکو بتا دیا ہے کہ امداد نہ بھی کی گئی تو اپنے وسائل سے اس منصوبے کو مکمل کریں گے، لوکو موٹو کی تعداد میں 35 کا اضافہ کیا ہے۔ 2014ء میں چین سے 23 لوکو موٹو خریدیں گے، بزنس ٹرین کو بند نہیں کر رہے ہیں بلکہ معاہدے پر عمل درآمد چاہتے ہیں ، بزنس ٹرین چلانے والی نجی کمپنی نے 35 کروڑ ادا کرنے ہیں ۔ وہ شرکاء کو بریفنگ دے رہے تھے جبکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے ریلوے ملازمین کی ہائوسنگ سوسائٹی کے معاملات پر غور کے لئے سب کمیٹی تشکیل دیدی، کمیٹی نے ریلوے ڈیفالٹرز کی رپورٹ طلب کر لی، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے درخواست کی کہ پاکستان ریلوے کو ’’نو مین کراسنگ پوائنٹ‘‘ پر معاونت فراہم کریں۔ کمیٹی کا اجلاس چیئر مین کمیٹی مولانا عبدالغفور حیدری کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ اجلاس میں ممبران کمیٹی کے علاوہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، سیکرٹری ریلوے اور جنرل مینجر ریلوے نے شرکت کی۔ ایک موقع پر ممبران کمیٹی کی جانب سے ریلوے ڈیفالٹر کو کمیٹی اجلاس میں بلانے پر وفاقی وزیر اور ممبران کمیٹی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ وفاقی وزیر ریلوے نے کہا  اگر ڈیفالٹرز کو کمیٹی میں بلایا گیا تو میں اجلاس میں شرکت نہیں کروں گا۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ کمپنی نے 35 کروڑ روپے ریلوے کو ادا کرنے ہیں مگر وہ سفارشوں پر سفارشیں کروا رہے ہیں، ہم نے کوئی سفارش نہیں ماننی جس پر کمیٹی نے معاہدے کی تمام تفصیلات طلب کر لیں۔ کمیٹی نے وزیر ریلوے کی بریفنگ پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے اگلے اجلاس میں ریلوے ہسپتالوں، پاکستان ریلوے کی آمدن اور بزنس ٹرین معاہدے کی تفصیلات طلب کر لیں۔