تاصف ملک لاپتہ کیس، پولیس نے جو لائن لی ہے اسے تبدیل کرنا درست نہیں: جسٹس افتخار

اسلام آباد (وقائع نگار) تاصف ملک لاپتہ کیس میں پولیس کی جانب سے سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ میجر حیدر نامی فوجی افسر جس کا نام تاصف کو لاپتہ کرنے میں نام لیا جارہا ہے  اس کے اصل نام کا علم ہو گیا ہے اس کا اصل نام محمد علی احسن ہے جو اس وقت بلوچستان کے علاقے واران میں فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی تو ڈی آئی جی عبدالقادر قیوم نے عدالت کو بتایا کہ میجر حیدر کے فون کی فرانزک سے پتا چلا کہ اس نے کراچی کا سفر کیا تھا ہم نے متعلقہ ایئرلائن سے معلومات حاصل کیں تو جس سیٹ پر اس نے سفر کیا تھا اس سے معلومات ملیں کہ مذکورہ شخص کا نام محمد علی احسن ہے اب کارروائی مزید آگے بڑھانے کیلئے  وزارت دفاع سے رابطہ کیا جائے گا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ ایجنسیوں نے تو تحریری طور پر عدالت کو بتایا تھا کہ وہ مکمل تعاون کریں گے تو ڈی آئی جی نے بتایا کہ فوجی اتھارٹیز کو اس کیس کے سلسلے میں کئی خط لکھے گئے ہیں مگر کسی کا ابھی تک جواب  نہیں آیا معلوم نہیں تعاون کس کو کہتے ہیں تاہم پھر بھی ہم پر امید ہیں کہ تعاون کیا جائے گا ۔چیف جسٹس نے کہاکہ یہ تو کوئی ذاتی لین دین کا معاملہ لگتا ہے ادارہ جاتی نہیں ہو سکتا ۔ایم آئی کے وکیل ابراہیم ستی نے کہاکہ پولیس سے کہا جائے کہ وہ تفتیش کے دیگر پہلووں کو بھی مدنظر رکھے ایک ہی لائن پر چلی جارہی ہے تو چیف جسٹس نے کہاکہ پولیس نے جو لائن لی ہے اس پر پیشرفت ہو رہی ہے اس کو تبدیل کرنا درست نہ ہوگا۔ عدالت نے مزید سماعت آج منگل تک ملتوی کردی۔