اربوں کے قرضے معاف کرانے کا کیس‘ ہر ادارہ کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے‘ حکومت کو عوام کا پیسہ واپس لانے میں کوئی دلچسپی نہیں: چیف جسٹس

اربوں کے قرضے معاف کرانے کا کیس‘ ہر ادارہ کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے‘ حکومت کو عوام کا پیسہ واپس لانے میں کوئی دلچسپی نہیں: چیف جسٹس

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ نے 1961ء سے 2009ء تک بینکوں سے اربوں روپے کے قرضے معاف کرانے کے مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ملک کا ہر ادارہ کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے ، ماتحت عدلیہ سمیت کوئی مقدس گائے نہیں، کسی کو بھی ملکی دولت لوٹنے کی اجازت نہیں دینگے ، مک مکا کا کلچر پروان چڑھ چکا ہے ، بڑے بڑے ادارے بھی کرپشن سے محفوظ نہیں ہیں ، عدالت کی اپنی حدود ہیں ، حکومت نے کئی مقدمات کی سفارشات پر آج تک کوئی عمل نہیں کیا ، نو ماہ گزر گئے ، کمیشن کی سفارشات کے باوجود اب تک کوئی قابل ذکر کارروائی عمل میں نہیں آئی اور نیب نے ابھی تک ملزمان کیخلاف کوئی خاص کارروائی نہیں کی۔ ، ڈنگ ٹپائو پالیسی نہیں چلے گی ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے  کہ حکومت عوام کا پیسہ واپس لانے میں مخلص نہیں ہے اور دلچسپی بھی نہیں لے رہی ، نو ماہ میں بچہ پیدا ہوجاتا ہے مگر قرضوں کی واپسی کا کچھ بھی نہیں کیا گیا ،جبکہ عدالت نے قرضوں کی معافی کے حوالے سے کمیشن کی رپورٹ پر سیکرٹری خزانہ  سے تفصیلی جواب اور اٹارنی جنرل منیر اے ملک کو بدھ کے روز معاونت کے لیے طلب کیا ہے ۔ خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ کمیشن کے پاس 120مقدمات درج کئے گئے جس میں 25لاکھ روپے قرض لینے کا معاملہ بھی تھا 75مقدمات میں رقم واپس کردی گئی ،2.64ملین روپے کا معاملہ  تھا 1971ء سے 2009ء تک قرضوں کی معافی کے حوالے سے بینکوں سے ریکارڈ  لیا گیا۔ خواجہ حارث نے کمیشن کی رپورٹ پر کہا کل 281ارب روپے معاف کرائے گئے اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی آپ کی خواہش کہ عوام کا پیسہ واپس آجائے اگر وزارت خزانہ نے اس حوالے سے کچھ کیا ہے تو وہ عدالت کو بتائے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ 225 مقدمات کی مزید تحقیقات کیلئے کمشن نے حکم جاری کررکھا ہے  پچاس ہزار سے زائد افراد نے قرضے لے کر معاف کرائے 232 مقدمات کی تحقیقات کی جانا باقی ہے بہت سے مقدمات کی تحقیقات میں ناکافی شواہد حائل ہیں۔  کمیشن نے ایک فارمولا کے تحت کارروائی کی سفارش کی ہے بہت سے مقدمات میں قرض دہندگان کے نام ای سی ایل پر ڈالے جانے کا کہا گیا ہے 84بلین روپے کی رقم واپس آچکی ہے جس میں سود کی واپسی مشکل ہے۔ 9.5ارب روپے کی رقم کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ سود کی شرح ، لوگوں کے وفات پانے ، بینک ختم ہونے کی وجہ سے بھی مشکلات ہیں ۔تحقیقات کی رفتار معلومات کی فراہمی میں مشکلات کی وجہ سے بہت سست ہے۔ 339 مقدمات ایسے ہیں کہ جن میں ایک روپیہ بھی واپس نہیں کیا گیا ہے کمشن نے بہت سے مقدمات میں جہاں لوگوں کو بزنس میں نقصان اور دیگر ٹھوس وجوہات تھیں ان میں قرار دیا ہے کہ قرض کی اصل رقم ادا کی جائے اور سود ادا نہ کیا جائے۔ روپے کی قدر کم ہونے کی وجہ سے بھی اصل رقم پر سود کی مقدار بڑھی ہے اس کی شرح کا بھی تعین کیا جانا ضروری ہے کئی لوگوں کو ان کے حقیقی مسائل کا وجہ سے رعایتیں  دی گئیں ۔ کمیشن نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ایسے تمام افراد جنہوں نے قرض کی اصل رقم کی مزید نصف سے بھی کم رقم جمع کرادی ہے  یا بالکل رقم جمع نہیں کرائی  ان کیخلاف تحقیقات کو وسعت دیتے ہوئے ان کیخلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ کمشن نے یہ بھی کہا ہے کہ کوآپریٹو سوسائٹیز  اینڈ بینکنگ آرڈیننس میں ضروری ترمیم بھی کی جائے۔ تین سال کے عرصے میں قرض واپس کئے جاتے تھے مگر اب یہ عرصہ ختم ہوچکا ہے اس لئے اس حوالے سے  ترمیم کی ضرورت ہے۔ احتساب آرڈیننس میں بھی ترمیم بھی ضرور ہوگی، بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962 کے تحت قوانین میں نہ صرف ترمیم کی ضرورت ہے بلکہ کئی جگہوں پر بہتری کی کافی گنجائش ہے ۔ سیاسی بنیادوں پر معاف کرائے گئے مقدمات میں بھی معاملات میں بہتری کی ضرورت ہے۔