گلگت بلتستان میں دھاندلی کی گئی تو وزیراعظم کیخلاف نیا پنڈورا بکس کھلے گا: خورشید شاہ

گلگت بلتستان میں دھاندلی کی گئی تو وزیراعظم  کیخلاف نیا پنڈورا بکس کھلے گا: خورشید شاہ

اسلام آباد (آئی این پی + نوائے وقت نیوز) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی بحالی کیلئے پرامید ہوں ہم چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف پارلیمنٹ میں واپس آکر کردار ادا کرے‘ حکومت پر پہلے ہی دھاندلی کا دھبہ لگا ہوا ہے اگر گلگت بلتستان میں دھاندلی کی گئی تو یہ الزام ثابت ہوجائے گا ‘ گلگت بلتستان میں دھاندلی سے مسلم لیگ ن کو کچھ نہیں ملے گا‘ وہ دھاندلی کرکے گلگت بلتستان انتخابات کو متنازعہ نہ بنائے‘ وزیراعظم سے اپیل کرتا ہوں کہ ایسے حالات پیدا نہ کئے جائیں جس سے ملک کو نقصان ہو ‘ وزیراعظم نے میرے کسی خط کا تاحال جواب نہیں دیا ‘ ہم نے حکومت نہیں جمہوریت‘ سسٹم‘ آئین‘ قانون اور پارلیمنٹ کو بچانے کیلئے اسے ملٹی وٹامن کی بڑی خوراک دی تھی۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھ سے ایک وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ آپ نے ہماری حکومت بچائی تھی لیکن ہم سے اچھی امید نہ رکھنا انہوں نے کہا کہ حکومت کبھی ٹیکسوں میں اضافہ کرتی ہے تو کبھی پاکستان چین اقتصادی راہداری کا روٹ بدل دیتی ہے، سمجھ نہیں آتا حکومت اتنے پنگے کیوں لے رہی ہے۔ روٹ تبدیل کرنے سے دونوں صوبے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ کیپٹن صفدر نے رات کو مجھے فون کیا کہ ہم اس ایشو پر بریفنگ دینا چاہتے ہیں آپ این ایچ اے کے دفتر آجائیں، میں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ پارلیمنٹ میں لایا جائے۔ گلگت بلتستان میں ایک وفاقی وزیر کو گورنر بنایا گیا ہے، مسلم لیگ(ن) کی حکومت گلگت بلتستان میں انتخابات سے پہلے دھاندلی کرنے جا رہی ہے، نگران حکومت میں 10 میں سے 7 وزیر مسلم لیگ(ن) کے لئے گئے ہیں چیف الیکشن کمشنر کا تعلق بھی مسلم لیگ ن سے ہے۔ مسلم لیگ(ن) گزشتہ انتخابات کے دھاندلی کے الزامات سے عمران خان سے جان نہیں چھڑا سکی۔ گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی کے گورنر کو غیر اخلاقی طریقے سے ہٹایا گیا، اخلاقی تقاضا تھا کہ گورنر کو بتایا جاتا، وزیر کو گورنر بنانا قانونی طور پر غلط ہے، ہم نے قمر زمان کائرہ کو گلگت بلتستان کا گورنر اس وقت بنایا تھا جب وہاں شروعات تھی جب سسٹم بن گیا تو ہم نے خاتون کو گورنر بنایا، ان کی وفات کے بعد منظور وٹو کو گورنر نہیں بنایا بلکہ گلگت بلتستان کا شہری گورنر بنایا۔ اس حوالے سے وزیر اعظم نواز شریف کو خط لکھ چکا ہوں لیکن جواب نہیں آیا۔ دھاندلی سے انہیں کچھ نہیں ملے گا۔ گلگت بلتستان میں دھاندلی کی گئی تو وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف ایک اور پنڈورا بکس کھل جائے گا۔ میں مسلم لیگ(ن) سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ نظام کو اپنے منشا کے مطابق نہ چلائیں، ایسے حالات پیدا نہ کریں جس سے ملک اور جمہوریت کو نقصان ہوا۔ تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان صلح کیلئے پرامید ہوں۔ اسحاق ڈار اعتزاز احسن رضا ربانی اور میں نے ملاقات کی تھی۔ شاہ محمود قریشی سے بھی اس سلسلے میں بات ہوئی ہے۔ اسمبلی کی مدت 4 سال کی مدت کی تجویز دی تھی جس سے مسائل کم ہوں گے۔ حکومت 40 فیصد ٹیکس وصول کر رہی ہے، 120ارب اب حکومت کے پاس ہیں، اس پر صوبوں کا بھی حق ہے۔ ماضی کی طرح ہم نے سیاست میں لڑائی جھگڑے، گو گو کے نعرے اور مخالفت کو ختم کیا ہے۔دریں اثنا اسلام آباد میں آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک یونین کے احتجاجی مظاہرہ سے خطاب میں خورشید شاہ نے کہا پیپلز پارٹی نے مزدوروں کو اداروں کا مالک بنایا۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ مزدور طبقے کی بات کی اور کرتی رہے گی۔ جمہوریت میں ہی ملک کی بقا ہے، 22 خاندان ملک پر قابض ہیں۔ نواز شریف اور عمران کسانوں اور مزدوروں کی بات نہیں کریں گے۔ ہم نجکاری کے معاملات پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے۔ اداروں کی نجکاری کی تو دمادم مست قلندر ہوگا۔ خورشید شاہ نے کہا حکمران پورا پا کستان فروخت کر نے کا پروگرام بنا رہے ہیں ان  کے عزائم کو ناکام بنا دیا جائے گا محنت کش  عوام کے حقوق پر ڈاکہ مارنے والوں کو اقتدار سے باہر نکال دیں گے واپڈا سمیت کسی بھی ادارے کی نجکاری قبول نہیں، نجکاری کی کوشش کی گئی تو پھر دمادم مست قلندر ہو گا، نواز شریف اور عمران خان کو مزدوروں کے حقوق کی پرواہ نہیں، پیپلز پارٹی مزدوروں کی جماعت ہے اور ان کے حق کیلئے ڈٹی رہے گی۔