کورٹ مارشل کیس: اہم معاملہ ہے ، تمام اپیلوں کو اکٹھا سنیں گے: سپریم کورٹ

اسلام آباد( صباح نیوز)سپریم کورٹ نے پاک فوج کے دو اہلکاروں کے کورٹ مارشل کے دوران انہیں وکیل کی خدمات حاصل کرنے کے حوالے سے مقدمہ کو اسی نوعیت کی دیگر اپیلوں کے ساتھ یکجا کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اہم نوعیت کا معاملہ ہے اس کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان اور جسٹس عمر عطاء بندیال پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے پاک فوج کے گنرمحمد مشتاق اور لانس نائیک مقدم حسین کی جانب سے کورٹ مارشل کیے جانے کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کی تو درخواست گزاروں کے وکیل کرنل ریٹائرڈ اکرم کا کہنا تھا کہ ان کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ فوجی عدالتوں میں کورٹ مارشل کی کاروائی کے دوران ملزمان کو اپنی مرضی کا وکیل کرنے کی اجازت ہونی چاہیے جس پر ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ یہ ایک انتہائی اہم نوعیت کا معاملہ ہے جس کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا بعدازاں عدالت نے کہا کہ اسی نوعیت کی دیگر چار اپیلیں عدالت میں زیر سماعت ہیں جن میں سے و فوجی اہلکاروں اور دو عام شہریوں کی ہیں اس لیے اس مقدمہ کو بھی ان کے ساتھ یکجا کر کے سنا جائے گا مقدمہ کی مزید سماعت مارچ کے تیسرے ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔