زمینوں سے پیار کرنیوالے وراثت بچانے کیلئے بہنوں بیٹیوں کے وجود سے انکاری ہو جاتے ہیں : سپریم کورٹ

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ میں وراثت کے ایک مقدمے میں جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہے کہ یہ معاشرے کی ریت بن چکی ہے کہ بہنوں اور بیٹیوں کو وراثت میں سے ایک ٹکا بھی نہیں دینا‘ انہیں ڈرا دھمکا کر وراثت نہ لینے پر قائل کیا جاتا ہے‘ زمینوں سے پیار کرنے والے اپنی وراثت کو بچانے کیلئے سگی بہنوں اور بیٹیوں کے وجود تک سے انکاری ہوجاتے ہیں‘ اسلامی معاشرے نے خواتین کو وراثت میں جو حقوق دئیے ہیں اس سے کوئی انکار کرنے کی جرات نہیں کرسکتا‘ وقت آگیا ہے کہ بہنوں اور بیٹیوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ انہوں نے یہ ریمارکس سبھیل نامی خاتون کے بچوں کی وراثت میں حصہ دینے کے عدالتی حکم کیخلاف اپیل کی سماعت میں دئیے۔ تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔ اس دوران عدالت نے حکم جاری کیا کہ تینوں ماتحت عدالتوں نے خاتون کے حق میں فیصلہ دیا جبکہ وراثت کے دعویدار لوگوں نے تو خاتون کو غلام نبی مرحوم کی بیٹی تک تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ عدالت سمجھتی ہے کہ ماتحت عدلیہ نے جو فیصلہ دیا ہے اس میں مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے اس لئے درخواست خارج کی جاتی ہے اور خاتون کو وراثت کا دیا گیا حصہ برقرار رکھتے ہیں۔
سپریم کورٹ / وراثت