” کمانڈو “پرویز مشرف کی کمرہ عدالت میں حالت غیر، بار بار پسینہ پونچھتے رہے

اسلام آباد (وقار عباسی سے) ججز معزولی مقدمہ میں ضمانت کے حصول کے لئے سابق صدر پرویز مشرف جمعرات کی صبح 9 بج کر 25 منٹ پر اپنے سکیورٹی قافلے کے ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے۔ اس سے قبل ہی کاز لسٹ کے مطابق ان کا نام پکارا جا چکا تھا۔ تاخیر سے عدالت پہنچنے پر پرویز مشرف کے وکیل افضل قمر ایڈووکیٹ نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے معذرت کی۔ پرویز مشرف کے وکیل نے جب اپنے دلائل کا آغاز کیا تو فاضل جسٹس نے ان کی توجہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 6 کی طرف دلاتے ہوئے متعلقہ شقیں پڑھ کر سنائیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ ججز کی معزولی اور انہیں کام سے روکنے کا اقدام انسداد دہشت گردی ایکٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ پرویز مشرف کے وکیل نے جب عدالت کے سامنے یہ موقف اپنایا کہ کسی بھی متاثرہ جج نے نظر بندی کے خلاف شکایت درج نہیں کرائی تو فاضل جسٹس نے کہا کہ ججز کی نظربندی سے پورا عدالتی نظام تباہ ہوا، 18 کروڑ عوام متاثر ہوئے ہےں۔ یہ عوامی نوعیت کا مقدمہ ہے جس میں کوئی بھی شخص مدعی بن سکتا ہے۔ اس موقع پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے یہ شعر پڑھامیں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروںتمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانےدوران سماعت ایک موقع پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے پرویز مشرف کے وکیل سے کہا کہ 9 نومبر کو تو آپ نے یہ کہا تھا کہ ”ایہہ کی کم پا دِتا اے جنرل صاحب نے“۔ سماعت کے دوران پرویز مشرف کی سکیورٹی پر مامور رینجرز اہلکار کمرہ عدالت کے دروازے کے باہر حصار بنا کر کھڑے رہے۔جبکہ اےک درجن سے زاہد سکےورٹی اہلکار وکلاءکے لباس زےب تن کےے پروےز مشرف کے دائےں بائےں عدالت مےں وکلاءکا روپ دھارے کھڑے رہے ۔ سابق کمانڈو جب عدالت مےں فاضل جسٹس کے روبرو پےش ہوئے تو ان کی حالت غےر ہورہی تھی پسےنے سے شرابور پروےز مشرف بےشتر وقت پسےنہ پونچھنے مےں مصروف رہے۔ ےہ ان کا خوف تھا ےا کہ کمرہ عدالت کا ماحول تھا تاہم ان کی پرےشانی ان کے چہرے سے عےاں تھی۔ پروےز مشرف نے جو لباس زےب تن کررکھا تھا اس سے محسوس ہورہا تھا کہ انہوں نے کوئی بھاری بھرکم چےز قمےض کے اندر سے پہن رکھی ہے جو ان کے جسم کو غےرمتناسب بنارہی تھی۔ عدالت نے جب فےصلہ صادر کےا تو اس مرتبہ سابق کمانڈو نے حسب رواےت کوئی مکا فضا مےں نہےں لہراےا، وکلاءنے کمرہ عدالت میں تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے انہیں عدالتی تقدس ملحوظ رکھنے کی ہدایت کی۔ فیصلے کے بعد رینجرز اہلکاروں نے پرویز مشرف کو اپنے حصار میں لے لیا اور کمرہ عدالت سے باہر لے گئے احاطہ عدالت مےں اےس اےس پی آپرےشنز ےاسےن فاروقی ، اےس پی اور اےک ڈی اےس پی بھاری نفری کے ساتھ موجود تھے تاہم انہوں نے مشرف کو گرفتار کرنے کی جرا ت نہ کی اور دور کھڑے ہو کر ان کے فرار ہونے کا نظارہ کرتے رہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ اور اس کے باہر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے کسی کو بھی اندر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس موقع پر صحافیوں کو بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے بعد جب سکیورٹی اہلکار پرویز مشرف کو لے کر ہائی کورٹ سے نکلے تو وکلاءاور پرویز مشرف کے حامیوں نے ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی کی تاہم پولیس کی مداخلت سے ان کے درمیان تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا۔ بی بی سی کے مطابق مشرف جب کمرہ¿ عدالت سے باہر نکلے تو وکلا نعرے لگا رہے تھے دیکھو دیکھو کون بھاگا، گیدڑ بھاگا۔ کچھ وکلا گاڑی کے پیچھے بھاگے مگر وہ گاڑی نہ روک سکے۔