پولیس اہلکاروں نے مشرف کو سلیوٹ کیا، رینجرز سکواڈ کے ساتھ فارم ہاوس تک پہنچے: بی بی سی

اسلام آباد (بی بی سی) پرویز مشرف جب اعلیٰ عدالتوں کے ججز کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمے میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے تو وہ کافی مطمئن دکھائی دے رہے تھے۔ اپنے وکیل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کمرہ عدالت میں پہنچے جو اس بات کی غمازی کرتا تھا کہ شاید عدالت ان کی ضمانت میں توسیع کر دے۔ دلائل کے دوران مشرف بار بار ماتھے سے پسینہ صاف کرتے رہے اور اضطرابی کیفیت میں مبتلا دکھائی دئیے۔ کمرہ عدالت کھچا کھچ بھرا تھا۔ جب ان کی گرفتاری کا حکم دیا گیا تو وہ کمرہ عدالت سے نہایت تیزی سے نکلے۔ باہر نکلتے ہی مشرف کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے، اور وہ اپنے وکیل یا اپنی پارٹی کے جنرل سیکرٹری سے بات کئے بغیر اپنی بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھ گئے۔ ان کی سکیورٹی پر تعینات نجی سکیورٹی اور رینجرز کے اہلکار بھی اتنی ہی تیزی سے کمرہ عدالت سے نکلے اور انہیں بحفاظت وہاں سے نکال کر ان کے فارم ہاوس میں لے گئے۔ اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں نے اس وقت ایسے ردعمل کا اظہار کیا جیسے انہوں نے عدالتی حکم سنا ہی نہ ہو اور پرویز مشرف جب کمرہ عدالت سے گاڑی میں بیٹھنے کے لئے نکل رہے تھے تو کمرہ عدالت کے باہر موجود پولیس اہلکاروں نے انہیں سلیوٹ کیا۔ بات صرف یہیں پر ہی ختم نہیں ہوئی بلکہ وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے پولیس کنٹرول پر کوئی پیغام بھی نہیں دیا کہ سابق صدر پرویز مشرف کی ضمانت مسترد ہو گئی ہے لہٰذا ان کی گاڑی کو ناکہ لگا کر روک لیا جائے۔ ان کی گاڑی کو رینجرز اور پولیس اہلکار سکواڈ کر رہے تھے۔ پولیس حکام کی طرف سے ان کے لئے سڑکوں پر لگایا جانے والا روٹ اس وقت تک ختم نہیں کیا گیا جب تک وہ خیر و عافیت فارم ہاو¿س نہیں پہنچ گئے۔