مشرف کو ملک سے بھاگنے نہ دیا جائے‘ کیفرکردار تک پہنچانا نگران حکومت کی ذمہ داری ہے

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں) اراکین سینیٹ نے کہا ہے کہ نگران حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پرویز مشرف کو کیفر کردار تک پہنچائے اور انہیں ملک سے نہ بھاگنے دیا جائے، آئندہ انتخابات کا انعقاد بروقت کرایا جائے، سابق صدر پرویز مشرف کے عدالت سے فرار ہونے پر آئی جی اسلام آباد کو برطرف اور عدالت کے حکم پر عملدرآمد نہ کرنیوالوں کو کڑی سزا دی جائے، ملک میں دوہرا قانون ہے ، سویلین ہوتا تو کیا اسے بھی ایسے موقع پر پروٹوکول کے ساتھ گھر جانے دیا جاتا جبکہ چیئرمین سینیٹ سید نیئر حسین بخاری نگران وزیر داخلہ کو پرویز مشرف کی گرفتاری کے حوالے سے وضاحت کیلئے آج جمعہ کو ایوان میں جواب دینے کی ہدایت کر دی۔ جمعرات کو سینیٹ کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے اے این پی کے سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ موجودہ سینیٹ نے ایک آمر کیخلاف قرارداد پاس کی تھی اس نے آئین کو پامال کیا، ججوں کو نظربند کیا لیکن عجیب واقعہ ہوا ایک عوامی وزیراعظم کو تو 30 سیکنڈر کی سزا دے کر گھر بھیج دیا گیا مگر آمر کو اتنا پروٹوکول تھا کہ شاید اتنا پروٹوکول آج کسی کے پاس نہ ہو یہ دوہرا معیار ملک میں کیوں ہے۔ نگران حکومت بتائے کہ کس کے کہنے پر ایک آمر کواتنی سیکیورٹی دی گئی ۔ مشرف نے ملک کو داﺅ پر لگایا ہم قربانیاں دے رہے ہیں قانون سے کوئی بالا تر نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ موجودہ نگران حکومت سے سوال ہے کہ کیا پاکستان کے اندر دو قانون موجود ہیں۔ میری معلومات کے مطابق آئین میں کوئی ایسی شق نہیں ہر شہری برابر ہے، سپریم کورٹ نے دو وزرائے اعظم کے خلاف کارروائی کی اور انہیں گھر بھیج دیا۔ ایک آمر نے دو بار ملک کے آئین کو پامال کیا اس لئے اس کو صدر تسلیم نہیں کرتے۔ پرویز مشرف بینظیر ، اکبر بگٹی کے قتل میں ملوث ہے بلوچ عوام کے ساتھ زیادتی کی ، ججوں کو نظر بند کیا مگر جب وہ ملک میں آتا ہے تو نگران حکومت اس طرح سیکیورٹی دیتی ہے جیسے اس کی صدارت میں بھی نہیں تھی۔ عدالت سے پرویز مشرف کا جانا سوالیہ نشان ہے کہ اس ملک میں دو قوانین ہیں۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس ملک میں دو قوانین ہیں ایک عام شہری اور دوسرا سکیورٹی پرسنز پر عائد ہوتا ہے۔ اگر نواز شریف بینظیر بھٹو یا ذوالفقار بھٹو ہوتے تو کیا ان کو بھی پروٹوکول کے ساتھ گھر جانے دیتے۔ پرویز مشرف وہ شخص ہیں جنہوں نے آئین میں پیوند کاری کی۔ ان کی تصویریں آج بھی سرکاری اداروں میں ہیں سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی مل کر مطالبہ کریں کہ ریاستی اداروں سے ان کی تصاویر اتار لی جائیں۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ پرویز مشرف کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی ہوئی چاہئے۔ 62 اور 63 کا اطلاق بلوچستان کے لوگوں پر ہوتا ہے۔ سینیٹر سعید غنی نے کہا کہ آج انتخابی امیدواروں پر جو حملے ہو رہے ہیں وہ مشرف کا کیا دھرا ہیں۔ مشرف کو سزا ملنی چاہئے اور ساتھ ہی ان لوگوں کو بھی سزا دی جائے جنہوں نے آٹھ سال انہیں مضبوط کیا ۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ مشرف کے جرائم کی فہرست طویل ہے انہوں نے آئین اور قانون کے ساتھ ظلم کیا۔ ڈاکٹر عافیہ کو ڈالروں کے عوض امریکہ کے حوالے کیا دہشت گردی کیخلاف جنگ میں 50 ہزار لوگوں کو شہید کروایا معیشت تباہ کی، لال مسجد میں فاسفورس بم گرائے۔ سینیٹر سعیدہ اقبال نے کہا کہ پرویز مشرف کی غیر موجودگی میں اس کی جماعت کیسے رجسٹرڈ ہو گئی کراچی ایئرپورٹ پر اس کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔ چیئرمین سینٹ سید نیئر حسین بخاری نے ہدایت کی کہ نگران وفاقی وزیر داخلہ ملک حبیب خان آج جمعہ کو سینٹ کو آگاہ کریں کہ پرویز مشرف عدالت سے کیسے فرار ہوئے اور انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔ رضا ربانی نے کہا کہ پرویز مشرف کو ریاستی اداروں نے حفاظت دی جو سوالیہ نشان ہے۔ وقفہ سوالات کے دوران آگاہ کیا گیا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران سابق گورنر خیبر پی کے مسعود کوثر سمیت 9 سرکاری افسران کے بیرون ملک علاج پر کروڑوں روپے کے سرکاری اخراجات آئے۔ سابق گورنر کو علاج کے لئے 54 لاکھ روپے ادا کئے گئے تھے۔ چیئرمین نادرا سمیت ڈی جی ڈائریکٹرز جنرل دونوں ڈائریکٹرز اور تینوں ڈپٹی ڈائریکٹرز کی دوہری شہریت ہے، بیرون ملک سرکاری خرچ پر علاج کرانے والے افسران اور نادرا کے کلیدی عہدوں پر تعینات دوہری شہریت رکھنے والے اعلیٰ حکام کی فہرست سینٹ میں پیش کر دی گئی ہے۔ سینیٹرز نے ایوان بالا میں نگران وزیر داخلہ کی عدم شرکت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ سید طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ پارلیمنٹ کا احترام نہیں کیا جا رہا ہے۔ 18ویں ترمیم کے تحت کابینہ سینٹ کو بھی جواب دہ ہے۔ سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ وزیر داخلہ اور سیکرٹری داخلہ، قائمہ کمیٹی کو بھی اہمیت نہیں دے رہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات عارف نظامی نے ایوان بالا کو بتایا ہے کہ ابھی تک ملک میں پیمرا نے 89 سیٹلائٹ کی ٹی وی چینلز کے لائسنس جاری کیا ہے۔ جاری شدہ ایف ایم ریڈیو لائسنسوں کی تعداد 188 ہے۔ دو سیٹلائٹ کی ٹی وی چینلز اور 29 ایف ایم ریڈیو لائسنسوں پر بھی کام ہو رہا ہے۔ کرنل (ر) عابد حسین مشہدی کے سوال کے جواب میں وزیر قانون احمر بلال صوفی نے سینٹ کو بتایا کہ ملک میں فوج کی 126 سی ایس ڈی شاپس کام کر رہی ہیں۔ وزیر داخلہ ملک حبیب خان نے سینیٹر زاہد خان کے سوال کے تحریری جواب میں ایوان بالا کو آگاہ کیا کہ چیئرمین نادرا محمد طارق ملک، ڈی جی فیض شہزاد، ڈائریکٹرز احمد کمال گیلانی، سہیل جہانگیر، ڈپٹی ڈائریکٹرز عدنان قریشی، وریام شفقت، عمران احمد کی دوہری شہریت ہے۔ وزیر قانون و انصاف نے سینٹ کو یقین دہانی کروائی کہ نادرا کے کلیدی عہدوں پر دوہری شہریت والوں کی تعیناتی پر ایوان کی تشویش سے حکومت کو آگاہ کر دیں گے۔ وزارت دفاع کی جانب سے ایون کو بتایا گیا کہ گذشتہ چار سال کے دوران پی آئی اے کو مجموعی طور پر 75 ارب روپے سے زائد کا خسارہ ہوا جبکہ اسی عرصہ کے دوران پی آئی اے کو خسارے سے نکالنے کے لئے حکومت کی جانب سے سبسڈی ادا نہیں کی گئی۔ سینٹ کا اجلاس آج جمعہ کی صبح 10 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔