مجھے سیاست کرنے سے کیوں روکا جا رہا ہے، اداروں میں کشیدگی کا خطرہ ملک کو غیر مستحکم کر سکتا ہے: مشرف

مجھے سیاست کرنے سے کیوں روکا جا رہا ہے، اداروں میں کشیدگی کا خطرہ ملک کو غیر مستحکم کر سکتا ہے: مشرف

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + این این آئی) سابق صدر پرویز مشرف نے ویڈیو بیان جاری کر دیا تاہم اس میں انہوں نے عدالت میں پیش آنے والے واقعہ پر یا گرفتاری دینے یا نہ دینے پر بات نہیں کی۔ پرویز مشرف نے ویڈیو بیان میں الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مجھے سیاست کرنے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ میں نے ملک کو ترقی دی، عوام کو خوشحالی اور حقوق دئیے، بے شمار سڑکیں، ڈیمز بنوائے، ٹیلی کمیونیکیشن اور آئی ٹی کو فروغ دیا، عوام بالخصوص عورتوں اور اقلیتوں کو حقوق دلائے، آئی ایم ایف کا کشکول توڑا، ہمیشہ کہا ”سب سے پہلے پاکستان“ ملکی دفاع میں بے شمار اضافہ کیا، اسے مضبوط بنایا، زرعی اور صنعتی انقلاب لایا، معیشت کو دنیا کے 11 ملکوں میں لا کھڑا کیا، میں نے بے شمار یونیورسٹیاں بنوائیں۔ این این آئی کے مطابق مشرف نے کہا اس فیصلے کے بعد اداروں میں کشیدگی کا خطرہ ہے۔ انہوں نے ریاست کے مختلف ستونوں کے درمیان غیر ضروری کشیدگی کے لئے خبردار کرتے ہوئے کہا یہ قدم ممکنہ طور پر ملک کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ پرویز مشرف کے آفیشل فیس بک صفحے پر بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ یہ غلط عدالتی فعالیت جو کہ ذاتی مفاد پرستی ہے رک جائے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ مشرف کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جا رہا ہے۔ بیان کے مطابق انہیں امید ہے کہ سپریم کورٹ بغیر کسی جانب جھکتے ہوئے غیر جانبدارانہ فیصلہ کرے گی اور اگر ایسا نہ ہوا تو قوم کا مذاق بنے گی۔ پرویز مشرف نے کہا کہ میری جان بھی چلی جائے تو پرواہ نہیں۔ ملک کی خاطر ہر مشکل برداشت کرنے کو تیار ہوں۔ سپریم کورٹ سے انصاف ملنے کی امید ہے۔