عوام کو پانی‘ بیمار کو گولی نہیں ملتی‘ اعلیٰ حکام کو 27 کروڑ کہاں سے دیا جائیگا: چیف جسٹس

عوام کو پانی‘ بیمار کو گولی نہیں ملتی‘ اعلیٰ حکام کو 27 کروڑ کہاں سے دیا جائیگا: چیف جسٹس

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم اور وزیر داخلہ کو لائف ٹائم سکیورٹی اور مراعات کے حوالے سے وزارت داخلہ کی جانب سے نوٹیفکیشن واپس لینے اور اس پر عمل درآمد نہ کرنے سے متعلق دستاویزات پیش کرنے کی یقین دہانی پر معاملہ نمٹا دیا۔ سیکرٹری داخلہ کی عدالت میں نوٹس کے باوجود عدم پیشی اور عدم تعاون پر توہین عدالت کی کارروائی مو¿خر کر کے وارننگ دی گئی کہ وہ مستقبل میں ایسا رویہ اختیار نہ کریں کہ عدالت ان کے خلاف سخت کارروائی پر مجبور ہو جائے۔ عدالت نے انہیں معاملے پر معافی نامہ کے ساتھ تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اعلیٰ افسران آئین قانون کے مطابق کام کریں، صرف اعلیٰ حکام کی نہیں بلکہ 18 کروڑ عوام کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری وزارت داخلہ پر ہے، عدالتیں مذاق نہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سکیورٹی دینا ہے تو عام لوگوں کو دیں یا کام کی نوعیت کے حساب سے، لائف ٹائم سٹاف سکیورٹی دینا کہاں کا قانون ہے؟ اس قوم پر پہلے ہی بہت بوجھ ہے۔ جس عوام کو پانی کا گلاس اور بیمار ہونے پر گولی نہیں ملتی، اعلیٰ حکام کو 27 کروڑ روپیہ کہاں سے دیا جائے۔ عدالت نے نوٹس کے باوجود سیکرٹری داخلہ خواجہ صدیق اکبر کے نہ آنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا لگتا ہے وہ بہت بڑے افسر ہو گئے ہیں۔ ان سے رابطہ کیا جائے اور وقفہ تک انہیں عدالت میں بلائیں۔ اٹارنی جنرل اور طارق لودھی نے عدالت کو بتایا کہ متعدد بار ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ فون نہیں اٹھا رہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم نے جاتے جاتے سکیورٹی و مراعات کا نوٹیفکیشن 15 مارچ 2013ءجاری کیا۔ یہ کام نوٹیفکیشن سے نہیں قانون سازی سے ہوسکتا ہے۔ سیکرٹری ہمیشہ عدالت آنے سے کتراتے رہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہر چیز پر قانون سازی نہیں ہو سکتی، ان کے پاس توہین عدالت کی کارروائی کا اختیار نہیں، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایسا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی۔ اگر پولیس کے 450 اہلکار سکیورٹی کیلئے تھے تو پھر عوام کی حفاظت کون کرے گا۔ سیکرٹری داخلہ خواجہ صدیق اکبر نے عدالت میں پہنچ کر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نوٹس صبح 9:30 پر ملا۔ پیغام ملنے پر انہوں نے فوراً آنے کی کوشش کی جبکہ عدالت نے رجسٹرار کی رپورٹ پیش کی جس کے مطابق وزارت داخلہ نے عدالتی نوٹس رات 8:30 پر وصول کیا تھا۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ متعدد بار ایسا رویہ اپنا چکے ہیں۔ اپنے آفس کا سسٹم آپ نے خود ٹھیک کرنا ہے۔ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرتے ہیں۔ جسٹس چودھری اعجاز احمد نے کہا کہ آپ کو آرٹیکل 6 کے تحت 6 ماہ کیلئے جیل بھیجتے ہیں جب واپس آئیں گے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ آپ کی سہولت کیلئے رات کو کورٹ لگا لیتے ہیں۔ خواجہ صدیق نے بتایا کہ سابق وزیر داخلہ رحمن ملک کی ہدایت پر نوٹس ان کے پرائیویٹ سیکرٹری جاوید اقبال راجہ نے لکھا سابق وزیر داخلہ رحمن ملک نے اپنے دور میں دہشت گردوں، قانون شکنوں اور طالبان سمیت شرپسندوں کے خلاف متعدد کارروائیاں کیں جس پر انہیں دھمکیاں مل رہی تھیں۔ نوٹیفکیشن 15-4-13 کو جاری ہوا، پھر اسی دن اسے کینسل کر دیا گیا۔ عدالت سے استفسار کیا کہ اس پر دستخط کرنے سے پہلے اسے آئین و قانون کے مطابق کیوں نہیں دیکھا گیا، بعد میں کیوں آپ لوگوں کی آنکھیں کھلیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ ایف آئی اے کی طرف سے 450 اہلکار سکیورٹی کیلئے دینا پرسنل سٹاف نادرا کی جانب سے دینا خلاف قانون وہ بھی لائف ٹائم آپ نے خود سمری آگے موو کی؟ ایڈیشنل سیکرٹری طارق لودھی نے بتایا کہ نوٹیفکیشن غلط جاری ہوا جسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ جسٹس اعجاز احمد چودھری نے کہا کہ وزراءکی اتنی چاپلوسی نہ کریں جیسے وہ خدانخواستہ تمہارے خدا ہوں۔ سندھ کی صوبائی حکومت کی جانب سے چیف منسٹر، سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور ارکان اسمبلی کو لائف ٹائم سکیورٹی و مراعات دینے سے متعلق منظور بل کے حوالے سے مقدمہ کی سماعت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی استدعا پر کراچی بدامنی اور نوگو ایریاز سے منسلک کرتے ہوئے 2 ہفتے کیلئے ملتوی کر دی گئی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بل کیسے منظور کیا گیا، لائف ٹائم سکیورٹی و مراعات کس قانون کے تحت دینے کا بل منظور ہوا؟