عوام کو حقائق کا علم ہونا چاہئے‘ چیف جسٹس ۔۔۔ لال مسجد کی رپورٹ عام کرنے کا حکم

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے لال مسجد کمشن کی رپورٹ کو پبلک کرنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ عوام کو حقائق کا علم ہونا چاہئے۔ حالات و واقعات سے آگاہی حاصل کرنا آئین کے تحت شہریوں کا حق ہے جس سے انہیں محروم نہیں کیا جا سکتا۔ کمشن کی رپورٹ کو خفیہ رکھنے کے لئے کہا گیا مگر اس میں خفیہ رکھنے والی کوئی بات نہیں۔ عدالت نے ایڈووکیٹ طارق اسد کو عدالتی معاونت کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 10 روز کے لئے ملتوی کر دی ہے۔ 3 رکنی بنچ میں وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس شہزاد شیخ کی سربراہی میں قائم ”لال مسجد کمشن“ کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔ چیف جسٹس نے کمشن کی رپورٹ کو خفیہ رکھنے کی سفارش مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ حقائق جاننا لوگوں کا حق ہے، کمشن میں لوگوں نے رضاکارانہ طور پر شواہد اور بیانات جمع کروائے۔ سماعت کے پوائنٹس اور میڈیا کی رپورٹ کو کنسلٹ کیا گیا۔ عدالت نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو حکم دیا کہ وہ رپورٹ کی کاپیاں مقدمے کے فریقین میں تقسیم کرتے ہوئے اسے پبلک کرنے کے انتظامات کریں۔