حمید نظامیؒ مرحوم نے صحافی کیلئے مطالعہ، محنت، پڑھا لکھا ہونا لازمی قرار دیا: نگران وزیر اطلاعات

اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عارف نظامی نے کہا کہ انفارمیشن سروس کے افسروں کا اطلاعات کی فراہمی میں نہایت اہم کردار ہے انہیں پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق استوار کرنا چاہئے، وزارت اطلاعات عوام کو اطلاعات کی فراہمی کے حوالےف سے میڈیا کے لئے سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے افسروں کی تربیت کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ انفارمیشن سروس میں مزید اچھے افسر درکار ہیں۔ حکومت اظہار رائے کی آزادی پر یقین رکھتی ہے کیونکہ جمہوریت کے فروغ میں اس کا اہم کردار ہے۔ صحافی اور انفارمیشن افسروں کا کام ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چلتا ہے اور بنیادی طور پر دونوں ہی اطلاعات کی فراہمی کے عمل کا حصہ ہوتے ہیں۔ انفارمیشن افسروں کو پرنٹ کے علاوہ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا سمیت ابلاغ عامہ کی نئی جہتوں سے بھی استفادہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے اپنے والد حمید نظامی مرحوم کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم حمید نظامی صحافی کیلئے تین پہلو لازمی قرار دیتے ہیں جس میں مطالعہ کےساتھ محنت اور اس کا پڑھا لکھا ہونا شامل ہے۔ قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس اے خالد سرور نے بتایا کہ 29گروپس کی صورت میں 400 انفارمیشن آفیسرز کو تربیت دی گئی۔ دریں اثناءنگران وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عارف نظامی نے پاکستان براڈکاسٹنگ ایسوسی ایشن کو باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے ان کے مسائل کے حل کے لئے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ پیمرا ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہونے والے اجلاس میں پی بی اے کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان نے قاضی محمد اسلم کی سربراہی میں نگران وزیر سے ملاقات کی اور اس امر کی یقین دہانی کرائی گئی کہ پیمرا اور وزارت اطلاعات باہمی گفت و شنید کے ذریعے مسائل کے حل کے لئے کوشاں رہیں گے اور الیکٹرانک میڈیا کے موجودہ اور آنے والے مسائل کے لئے مل جل کر کام کریں گے۔ پی بی اے کے جن ایگزیکٹو ممبران نے اس اجلاس میں شرکت کی ان میں شکیل مسعود، طاہر اے خان اور ارشد زبیری کے علاوہ سیکرٹری اطلاعات و نشریات آغا ندیم ، چیئرمین پیمرا چوہدری رشید احمد، پی آئی او عمران گردیزی اور ڈائریکٹر جنرل پیمرا محمد سلیم نے بھی شرکت کی۔ عارف نظامی نے اس اجلاس کو مثبت قدم قرار دیتے ہوئے پیمرا اور پی بی اے کے درمیان افہام و تفہیم کی بہتر فضا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک بڑی پیش رفت ہے کہ ایک ہفتہ کے دوران براڈ کاسٹرز اور ریگولیٹرز کے درمیان دو دفعہ اس اجلاس کا انعقا دکیا گیا۔