یوٹیوب کی بندش کو ایک برس مکمل، پابندی ہٹانے کا کوئی فوری طریقہ نہیں: ثانیہ نشتر

اسلام آباد (این این آئی) پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز فلم ویڈیو سٹریمنگ ویب سائٹ یوٹیوب پر اپ لوڈ کرنے کےخلاف پاکستان میں عائد پابندی کو ایک سال مکمل ہوگیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ملنے والی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نگران حکومت کی وزیر ثانیہ نشتر نے بتایا تکنیکی اور قانونی ماہرین سے تفصیلی مشاورت کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ یوٹیوب پر عائد پابندی ہٹانے کا کوئی فوری طریقہ موجود نہیں، ایسا اب صرف نئی قانون سازی ہی سے ممکن ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا پاکستان کےلئے مخصوص قابل اعتراض مواد کو خود بلاک کرنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک یوٹیوب کا پاکستان کےلئے مخصوص ڈومین حاصل نہ کیا جائے۔ اس ڈومین کے حصول کےلئے حکومت کو کمپنی کو تحفظ کی ضمانت دینا لازم ہے جس کےلئے قانون سازی یعنی الیکٹرانک کرائم بل میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ انٹرنیٹ کے ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ تکنیکی سے زیادہ حکومتی عدم دلچسپی کا ہے۔ انٹرنیٹ کمپنیوں کی ملک گیر تنظیم کے رکن اور انٹرنیٹ فراہم کرنیوالے ادارے نیاٹیل کے سربراہ وہاج السراج کے مطابق حکومت کے پاس اس پابندی کو ختم کرنے کے کئی راستے ہیں تاہم بظاہر لگتا یہ ہے کہ حکومت اس معاملے میں سنجیدہ نہیں یا پھر اس معاملے میں کوئی سیاسی عزم نہیں جس کی وجہ سے کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ انہوںنے کہا گوگل کا تحفظ مانگنا صحیح مطالبہ ہے۔ انکے مطابق کوئی شخص ہماری ویب سائٹ (یوٹیوب) پر کوئی قابلِ اعتراض مواد پوسٹ یا جاری کردیتا ہے تو اس مواد کو ہم ہٹا تو دیں گے تاہم اس کی وجہ سے ہمارے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونی چاہئے۔ میرے خیال میں گوگل کا یہ نکتہ بہت منطقی ہے اور اسے حکومت موجودہ قوانین میں بڑی آسانی سے شامل کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت چاہے تو صدر کی جانب سے ایک آرڈیننس جاری کر کے اسے قانون میں شامل کر سکتے ہیں اور بعد میں پارلیمان میں قانون سازی کی جاسکتی ہے۔ پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال کی آزادی کےلئے سرگرم کارکن حسن بلال زیدی نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ صارفین نے کئی متبادل ذرائع بھی تلاش کر لیے ہیں۔ حسن بلال زیدی کے مطابق صارفین نے کسی نہ کسی طرح متبادل تلاش تو کیا ہے تاہم اس پابندی کے اصل متاثرین طالبعلم ہیں جو یو ٹیوب پر موجود لیکچرز سے محروم ہوئے ہیں یا پھر وہ صارف ہیں جو کمپیوٹر کے زیادہ ماہر نہیں اور پیچیدہ انٹرنیٹ ویب سائٹس پر نہیں جا سکتے۔