قرض دینے کے بدلے آئی ایم ایف کی پاکستانی معیشت میں مداخلت شروع

قرض دینے کے بدلے آئی ایم ایف کی پاکستانی معیشت میں مداخلت شروع

اسلا م آباد (آئی اےن پی) عالمی مالیاتی فنڈ نے ڈالر دینے کے بعد پاکستان کی معیشت میں ایک بار پھر مداخلت شروع کر دی۔ عالمی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے پاکستان اخراجات کم کرے، ٹیکس وصولی حقیقی بنائے اور مالی خسارے پر قابو پائے۔ آئی ایم ایف نے نیا قرضہ کیا دیا۔ رواں مالی سال کے وفاقی بجٹ میں بھی چھیڑ چھاڑ شروع کردی۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان پی ایس ڈی پی میں کمی کر کے اسے آٹھ سو چونتیس ارب روپے تک محدود کرے، جس کے تحت اسے وفاق کا ترقیاتی بجٹ ایک سو بیس ارب روپے گھٹانا ہوگا۔ جبکہ صوبائی اخراجات میں بھی دو سو ایک ارب روپے کٹوتی کرنا ہوگی۔ صرف یہی نہیں بلکہ آئی ایم ایف نے ٹیکس وصولی کے لئے چوبیس سو پچہتر ارب روپے کا ہدف بھی حقیقیت سے دور قرار دیا ہے اور اس میں ایک سو تیس ارب روپے کمی کی سفارش کی ہے۔ جس کے نتیجے میں مالی خسارہ پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد رہ جائے گا، آئی ایم ایف کا کہنا ہے رواں مالی سال اقتصادی شرح افزائش چار اعشاریہ چار فیصد ہدف کے مقابلے میں صرف ڈھائی فیصد اور افراط زر کی شرح آٹھ کے بجائے دس فیصد رہے گی۔