سینٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس، میرے جاننے والوں کو بھتے کی دھمکی ملی: نجمہ حمید

اسلام آباد (این این آئی) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں سینیٹر نجمہ حمید نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے جاننے والوں کو بھتے کی دھمکی ملی ہے، جس پر آئی جی اسلام آباد نے جواب دیا دھمکی افغانستان سے آرہی ہے، کچھ نہیں کر سکتے، بھتے سے اسلام آباد بھی محفوظ نہیں۔ منگل کو کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود کی زیرصدارت منگل کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا جس میں وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات وقومی ورثہ سینیٹر پرویز رشید کے علاوہ دیگر ارکان سینیٹر نجمہ حمید اور سینیٹر شاہی سید نے شرکت کی جبکہ وزارت داخلہ کے قائم مقام سیکرٹری، چئیرمین نادرا، ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد سمیت اعلی حکام موجودتھے۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر نجمہ حمید نے بتایا کہ ان کے عزیزوں کو بھتے کیلئے افغانستان سے کالز موصول ہوئیں، نجمہ حمید کے مطابق ان کے عزیزوں کو مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں اور وہ تین کروڑ روپے دینے پر آمادہ بھی ہوگئے، اب دھمکیوں کے ڈر سے اسلام آباد سے دبئی منتقل ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کی اطلاع آئی جی کی دی گئی تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ اسی اجلاس میں آئی جی اسلام آباد موجود تھے جن نے کہا افغانستان کے نمبر سے کالیں آرہی ہیں، یہ ہمارے بس میں نہیں، جنہیں دھمکیاں ملی، انہیں نہیں تحفظ دے سکتے۔ اجلاس کے دور ان کمیٹی کوبتایا گیا کہ اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ‘ ایک اچھا منصوبہ ہے یہ منصوبہ 2009ءمیں شروع کیاگیا، چار سال سے اس منصوبہ پر کام شروع نہیں ہوسکا، سپریم کورٹ نے2012ءمیں اس منصوبہ کو دوبارہ شروع کرنے اور پیپرا قواعد کے مطابق بولی کرانے کا حکم دیا جبکہ چینی حکومت نے قرضہ کی فراہمی کو منصوبہ چینی کمپنی کو دینے سے مشروط کیا۔ یہ 124 ملین ڈالر کا منصوبہ تھا جس میں سے 62 ملین ڈالر دسمبر 2011ءمیں چینی کمپنی کو ادا کئے جا چکے ہیں۔ اس طرح ایک لاکھ 24 ہزار ڈالر مارک اپ کی صورت میں بھی ہمارے ذمے پڑچکا ہے۔ کمیٹی کوبتایاگیا کہ سیف سٹی پشاور کا منصوبہ 110 ملین کا ہے تاہم اس پر کام شروع نہیں ہوا۔ چینی حکومت کی طرف سے ان منصوبوں کےلئے 25 سال کی مدت کا قرض منظورکرلیا گیا اور اب منصوبہ کو ختم کیاگیا تو چینی کمپنی کے ساتھ قانونی تنازعہ بھی بن سکتا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہاکہ یہ منصوبہ بہت بڑا سکینڈل ہے انہوں نے کہاکہ بنیادی طورپر یہ ایک بہترین منصوبہ ہے، کمیٹی اس کے خلاف نہیں تاہم شفافیت نہ ہونے کی وجہ سے سوالات اٹھتے ہیں۔ وفاقی وزیراطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے استفسار کیا کہ اس منصوبہ کی تکنیکی جزئیات کس نے طے کی تھیں؟ جس پر بتایا گیا کہ ٹھیکہ حاصل کرنے والی کمپنی ہی نے یہ تکنیکی جزئیات طے کی تھیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ ٹھیکہ حاصل کرنے والی کمپنی غیرشفافیت کے حوالہ سے بدنام ہے اور اسے بلیک لسٹ کیا جانا چاہئے۔ اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ کے لئے چین کی حکومت سے 124 ملین ڈالر کا قرضہ لینے اور چینی کمپنی کو 68 ملین ڈالر کی ادائےگی پر کمیٹی نے شدید بر ہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے مترادف قرار دیا۔ کمیٹی نے منصوبے کے لئے کئے گئے تمام معاہدوں اور اس میں شامل تمام افسروں کی تفصیلات طلب کر لیں، نادرا کی طرف سے کمیٹی کو بتایاگیا کہ اس منصوبے کے تحت وفاقی دارا لحکومت کی 1500کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کی جائے گی تاہم سپریم کورٹ کے حکم کے باعث عملد در آمد روک دیا گیا ہے منصوبے کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے عدالت کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کر دی۔