دہشت گردی کے خلاف جنگ منطقی انجام تک پہنچائیں گے: صدر ممنون

دہشت گردی کے خلاف جنگ منطقی انجام تک پہنچائیں گے: صدر ممنون

اسلام آباد(آئی این پی+این این آئی+اے پی پی) صدر ممنون حسین سے پا کستان میں متعین امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے ایوان صدر میں ملاقات کی جس کے دوران پاکستان امریکہ تعلقات اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی سفیر نے صدر ممنون حسین کو صدر مملکت کی ذمہ دارایاں سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے امریکی صدر باراک اوباما کا خیر سگالی کا پیغام پہنچایا ۔ اس موقع پر صدر ممنون حسین نے کہا پاکستان امریکہ سے اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتاہے، امریکہ کی طرف سے مختلف شعبوں میں پاکستان کی ترقی کیلئے تعاون کو سراہتے ہیں، صدر نے کہا دنیا میں امن کیلئے پاکستانی قوم اور ادارے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں، امریکہ اور دنیا کو پاکستان کی ان قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان مشکلات کو دور کرنے میں مدد دینی چاہیے جن کا پاکستان اور پوری قوم سامنا کر رہی ہے۔ صدر نے توقع ظاہر کی امریکہ پاکستان کے توانائی کے مسائل کو حل کرنے میں ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔ امریکی سفیر نے کہا امریکہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تنہا نہیں چھوڑے گا، شدت پسند پاکستان امریکہ تعلقات کو خراب نہیں کر سکتے، اپر دیر واقعہ جیسے دہشت گردی کے مذموم واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہیں، رچرڈ اولسن نے کہا پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا مشترکہ تعاون سے دہشت گردی کو ہر صورت شکست دی جائے گی۔امریکی سفیر نے اپر دیر میں اعلیٰ فوجی افسران کی شہادت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا اس قسم کی مذموم کارروائیوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوسکتے ہیں۔ اے پی پی کے مطابق صدر مملکت ممنون حسین سے ملک کی ممتاز یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز/ریکٹرز کے گروپ نے ایوان صدر میں ملاقات کی اور انہیں منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ این این آئی کے مطابق صدر مملکت سے فاروق حیدر، شاہ غلام قادر نے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر صدر ممنون حسین نے کہا حکومت پاکستان اور عوام، کشمیری عوام کو اپنے جسم کا حصہ سمجھتے ہیں اور مسئلہ کشمیر پر بھارت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے پرامن حل چاہتے ہیں۔