بلوچستان میں حکمرانوں اور بیورو کریسی کی ملی بھگت سے خزانہ ہڑپ کیا جارہا ہے: قائمہ کمیٹی

بلوچستان میں حکمرانوں اور بیورو کریسی کی ملی بھگت سے خزانہ ہڑپ کیا جارہا ہے: قائمہ کمیٹی

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) قومی آمدنی سے پسماندہ ترین علاقوں میں ساتویں مالیاتی ایوارڈ میں سے ضلع وار فنڈز کے اجرا اور خراجات کی تفصیلات کے حوالے سے سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے خزانہ کے اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ہر وفاقی حکومت نے ملک کے کم ترقی یافتہ علاقوں میںقومی ترقیاتی منصوبہ جات کیلئے سالانہ اربوں روپے کے فنڈز جاری کئے سابق حکومت کے دور میں وزیر اعظم نے صوبہ بلوچستان کیلئے 23ارب روپے کا خصوصی پیکج دیا ۔ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں پسماندگی اور غربت کے خاتمے کیلئے خصوصی قومی ترقیاتی منصوبہ جات پر کام جاری ہے ۔این ایف سی ایوارڈ میں تینوں صوبوں نے رضا کارانہ طور پر اپنے بجٹ میں سے بلوچستان کی ترقی اور عوامی خوشحالی کیلئے اپنے حصے میں کمی کر کے صوبہ بلوچستان کے فنڈز میں اضافہ کروایا۔ چیئر مین مجلس قائمہ محمد یوسف بادینی نے پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کے نمائندگان کی اجلاس میں عدم شرکت اور جاری منصوبہ جات کی تفصیل فراہم نہ کرنے پر دونوں صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کر دی ۔ مجلس قائمہ کا اجلاس منگل کے روز پارلیمنٹ ہاو¿س اسلام آباد میں منعقد ہوا۔جس میں سینیٹرز احمد حسن ، روزی خان کاکڑ ، خالدہ پروین ، محمد علی رند ،وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی ، یو ایس ایف ، بلوچستان اور کے پی کے کے پلاننگ اور ڈویلپمنٹ کی وزارتوں کے اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی ۔چیئر مین مجلس قائمہ محمد یوسف بادینی نے کہا کہ ملک کے ہر شہری کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے قومی خوشحالی ہی ملکی ترقی کی ضامن ہے ۔اس کیلئے زیادہ سے زیادہ کوششوں کی اشد ضرورت ہے ۔ چیئر مین کمیٹی نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی اور عوامی خوشحالی کیلئے ہر حکومت نے اربوں روپے کے فنڈز جاری کئے حکمرانوں اور بیوروکریسی کی ملی بھگت سے قومی خزانہ ہڑپ کیا جار ہا ہے ممبران پارلیمنٹ اپنے رشتہ دار ٹھیکیداروں کے ذریعے منصوبوں کی اصل رقوم میں سے 60فیصد تک خود کھا جاتے ہیں ۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کیا کہ قومی آمدنی میں سے فنڈز کا اجراءآبادی کے تناسب سے کیا جاتا ہے بلوچستان کے حصے میں پچھلے ادوار کی نسبت دوگنا اضافہ کر دیا گیا ہے ۔کمیٹی کے ارکان نے متفقہ تجویز کیا کہ بلوچستان میں پسماندگی اور غربت کو مد نظر رکھتے ہوئے موجودہ فنڈز کی رقم پر نظر ثانی کی جائے ۔اجلاس میں متفقہ طور پر وفاقی حکومت سے سفارش کی گئی کہ صوبہ میں جاری ترقیاتی منصوبہ جات میں لوٹ مار ،کاغذی منصوبہ جات کے نام پر گھپلے کرنیوالے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے خلاف تحقیقات کیلئے نیب اور ایف آئی اے سے مدد لے کر قومی خزانہ لوٹنے والوں کے خلا ف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے اور مانیٹرنگ کا بھی سخت نظام قائم کیا جائے ۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پی ڈی ایس پی کے میگا پروجیکٹس کا دائرہ کار بلوچستان تک بڑھایا گیا ہے اور تعلیم ، صحت اور مواصلات پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے ۔ چیئر مین کمیٹی یوسف بادینی نے کہا کہ کوئٹہ شہر کے گردو نواح میں ذرائع مواصلات کی سہولیات کی حالت بالکل خراب ہے لیکن افغان مہاجر کیمپ میں غیر قانونی طور پر موبائل فون کی سہولت استعمال کی جارہی ہے ۔وزیر اعلیٰ بغیرکابینہ کے ہیں جس کی وجہ سے محکمہ جات کی کارکردگی صفر ہے ۔USFکے ذمہ داران نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ بلوچستان کو مواصلات کے نظام سے منسلک کرنے کیلئے فائبر آپٹکس کا منصوبہ تکمیل کے مراحل میں مالا کنڈ میں سیلاب کی وجہ سے پی ٹی سی ایل کے نظام کی خرابی کو دور کر لیا جائیگا ۔ جنوبی پنجاب کے ریگستانی 8ہزار 8سو مواضات کو مواصلاتی سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں ۔ ملتان براڈ بینڈ ،اور پی ٹی سی ایل کے ذریعے 206سکولوںکو انٹر نیٹ لیب کی سہولیات فراہم ہو چکی ہیں ۔ جنوبی پنجاب کی سرحد پر مواصلاتی نظام بچھانے کیلئے وزارت دفاع کی اجازت ضروری ہے ۔ مجلس قائمہ کے اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ جاری قومی ترقیاتی منصوبہ جات کا معائنہ کمیٹی ارکان جلد کریں گے ۔ بلوچستان ، کے پی کے نئے عوامی منصوبہ جات فنڈز کے اجراءکی تفصیلات تحریری طور پر طلب کر لیں۔