امن کیلئے طالبان کی سخت شرائط ماننا ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے: سابق فوجی افسران

راولپنڈی (آئی این پی) سابق فوجیوں کی تنظیم (پیسا) نے جنرل آفیسر کمانڈنگ مالاکنڈ ڈویژن میجر جنرل ثنا اللہ نیازی اور دیگر افسران و سپاہیوں کی شہادت کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی سلامتی کی خاطر دی گئی یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ تحریک طالبان پاکستان نے حکومت سے امن مذاکرات کے دوران بزدلانہ کارروائی کر کے اپنے آپ کو ایک بار پھر ناقابل اعتبار ثابت کیا۔ امن کیلئے طالبان کی سخت شرائط ماننا ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے۔ قبل ازیں ٹی ٹی پی نے مذاکرات کی پیشکش پر مثبت ردعمل ظاہر کیا مگر اسکے فوراً بعد حملہ کر کے اپنے آپ کو بیرونی طاقتوں کا آلہ کار ثابت کیاجو پاکستان میں بدامنی کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد پورے کرنا چاہتے ہیں۔ یہ پاکستان پر دباﺅ بڑھانے کی کوشش نظر آتی ہے۔ سابق عسکری ماہرین نے ان خیالات کا اظہار پیسا کے صدر جنرل علی قلی خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا۔ اجلاس میں وائس ایڈمرل احمد تسنیم، لیفٹیننٹ جنرل نعیم اکبر، بریگیڈئیرز میاں محمود و سید مسعود الحسن، سفیر سلیم نواز گنڈاپور، میجر فاروق حامد خان اور دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے امن کے خواہاں طالبان کمانڈر ڈرون حملوں میں مار دئیے جاتے ہیں۔ جنرل نیازی کی شہادت کے بعد کمزور مذمتی بیانات سے عسکریت پسندوں کا حوصلہ بڑھا جبکہ قوم کے مورال پر منفی اثر پڑا۔ حکومت کی جانب سے دفاعی پوزیشن اختیار کرنے سے طالبان کے حوصلے بلند اور جارحیت کا موقع ملا ہے۔ سیاسی قیادت کو اس مسئلے کے حل کیلئے گہرائی میں جا کر سوچنا ہوگا کیونکہ دہشت گردی پر رسمی بیانات، تبصروں اور قراردادوں کے ذریعے قابو نہیں پایا جا سکتا نہ ہی عسکریت پسندوں سے ڈکٹیشن لی جا سکتی ہے کیونکہ فوج نہ صرف ملکی سلامتی کے تقاضوں سے آگاہ بلکہ تمام چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے تیار بھی ہے۔ عسکری ماہرین نے کہا کہ ٹی ٹی پی کی اشتعال انگیز کارروائی کے بعد اشتعال اور عجلت میں کوئی فیصلہ نہ کیا جائے اور سیاسی عمل کو آگے بڑھایا جائے۔