آئین ‘ پارلیمنٹ اور عدالت کو تسلیم کرنے والے شدت پسندوں سے مذاکرات ہوں گے: سینیٹر خارجہ امور کمیٹی

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز) سینیٹر حاجی عدیل کی زیر سربراہی سینٹ کی امور خارجہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ سینیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ صوبائی حکومت سوات سے فوج واپس بلا رہی ہے۔ میجر جنرل ثناءائلہ نیازی کو طالبان کے فضل اللہ گروپ نے نشانہ بنایا۔ ہم نے جدوجہد کرکے طالبان کو سوات سے بھگایا۔ اب انہوں نے وہاں دوبارہ آ کر کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ شدت پسند آئین، پارلیمنٹ اور عدالت کو تسلیم کرتے ہیں تو مذاکرات ہوں گے۔سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر جہانگیر بدر ،فرحت اللہ بابر اور صغریٰ امام نے تجویز دی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک مشترکہ پارلیمانی کمیشن قائم کیا جائے جو کہ عوامی رابطوں کی ترویج کرسکے اور خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھ سکے اور ان تبدیلیوں کے ممکنہ اثرات سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو محفوظ رکھ سکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانستان میں نیٹو فورسز کے انخلاءکے بعد کی صورتحال کے بارے میں ابھی سے پالیسی تیار کی جائے۔ فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ نیٹو فوج کے انخلاءکے بعد پاکستان اور بھارت کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ افغانستان میں غلبہ حاصل کرنے کیلئے کوششیں کریگی اس صورتحال میں افغان عوام کے دل جیتنے بہت ضروری ہیں ۔ جہانگیر بدر کا کہنا تھا کہ ان کے حالیہ دورہ افغانستان کے دوران صدر کرزئی نے پاکستان کے ساتھ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا مطالبہ کیا تھا۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر صغریٰ امام کا کہنا تھا کہ امریکہ خطے میں اپنی موجودگی سے کیا مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے کیونکہ امریکہ نے کابل بغداد اور اسلام آباد میں اپنے سفارتخانوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اس سرمایہ کاری کے پیچھے چھپے محرکات کو واضح کرنا چاہیے۔