وزارت ہاﺅسنگ اور ماتحت اداروں میں کرپشن کا راج ‘ زمینوں پر بھی قبضہ ہے: فیصل صالح

اسلام آباد (ریڈیو نیوز+نےوز اےجنسےاں) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاﺅسنگ نے سرکاری املاک پر نیب کے قبضے کا نوٹس لے لیا۔گزشتہ روز چےئرمےن کمیٹی عبدالنبی بنگش کی زےر صدارت اجلاس کو پاکستان ہاﺅسنگ فاﺅنڈےشن کی کارکردگی پر برےفنگ دی گئی جس پر ارکان کمےٹی نے عدم اطمےنان کا اظہار کےا جبکہ وفاقی وزیر ہاﺅسنگ فیصل صالح حیات نے کمیٹی کے اختیارات کو چیلنج کر دیا اور کہا ہے کہ کمیٹی کو ہر ٹینڈر اور منصوبے میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔وزارت ہاﺅسنگ اور اس کے ماتحت اداروں مےں کرپشن کا راج ہے اور اسی وجہ سے پی ڈےلےو ڈی سے کئی افسران کو برطرف کےا اور مزےد کرنا چاہتا تھا مگر ادارہ خالی ہونے کا اندےشہ تھا۔ کراچی ،کوئٹہ اور مری سمےت پورے ملک میںمحکمے کی زمینوں پر قبضہ ہے، بلوچستان میں ایف سی 300 گھروں پر قابض ہے جبکہ کراچی میں 650 ایکڑ زمین پر 60 فیصد قبضہ ہے، اس ملک میں لینڈ مافیا بہت طاقتور ہے۔وفاقی وزےر نے کہا کہ صحافےوں کو 20 ہزار دے کر کوئی بھی خبر لگوائی جا سکتی ہے ان رےمارکس پر صحافےوں نے اجلاس کا احتجاجا بائےکاٹ کر دےا۔فےصل صالح نے مزےد کہا کہ بہارہ کہو مےں پاکستان ہاﺅسنگ فاﺅنڈےشن کی طرف سے تےن ہزار کنال اراضی کی خرےداری مےں کرپشن ہوئی ، 44 ہزار روپے فی کنال والی زمےن 9 لاکھ روپے فی کنال مےں خرےدی گئی۔سابق وزےر کو مﺅقف دےنے کا وقت دےا ہے۔ دوسری طرف سےنٹ کی قائمہ کمےٹی برائے حکومتی ےقےن دہانےوں نے سی ڈی اے کی کارکردگی پر عدم اطمےنان کا اظہار کےا اور سےکٹر آئی 16اور شاہ اللہ دتہ کے منصوبے مکمل کر کے سی ڈی اے حکام کو آئندہ اجلاس مےں رپورٹ پےش کرنے کی ہدائیت کی۔