وزارت اطلاعات نے خفیہ فنڈ لینے والے صحافیوں کے نام سپریم کورٹ میں پیش کر دئیے

اسلام آباد(نمائندہ نوائے ووقت ) وزارت اطلاعات نے سرکاری خفیہ فنڈز لینے والے صحافیوں کے نام سپریم کورٹ میں پیش کر دیئے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے وزارت اطلاعات کے سیکرٹ فنڈز سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ وزارت اطلاعات کی جانب سے ایڈوکیٹ راجہ عامر عباس نے خفیہ فنڈز لینے والے صحافیوں کے نام سربمہر لفافے میں عدالت میں پیش کئے۔ صحافیوں کے ناموں اور فنڈز کی تفصیل سے متعلق ایک فائل بھی عدالت میں جمع کرائی گئی جبکہ ایک دوسری فائل میں اخراجات کی تفصیل کے بغیر صرف صحافیوں کے نام دیئے گئے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کے ساتھ بلی چوہے کا کھیل مت کھیلیں، آپ نے تو لمبی چوڑی فہرست پیش کرنی تھی۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے مزید کہا کہ ان کے حکم پر عمل نہیں ہوا۔ وزارت اطلاعات نے اگر کسی صحافی کو پیسے دئیے ہیں تو اس کی تفصیل کو خفیہ رکھنے کی کیا وجوہات ہیں۔ وزارت اطلاعات سے پوچھ کر بتائیں کیا خفیہ رکھنا ہے کیا عام کرنا ہے اگر کیس اشتہار کے بدلے ادائیگی ہے تو اس کو خفیہ رکھنے کی کےا ضرورت ہے، عدالت اس فہرست کو ویب سائٹ پر ڈال دے گی، عدالت کو ان فنڈز کی تفصیلات چاہئیں جو بغیر کسی وجہ کے دیئے گئے۔ ہر تفصیل الگ الگ ہو بھر عدالت اسے دیکھے گی پہلے طے کر کے بتاےا جائے کہ کون سی ادائیگی درست ہے اور کون سی غلط۔ ایسی غلط رپورٹ بنانے والے کو عدالت شو کاز نوٹس جاری کرے گی، پبلسٹی فنڈز کو کس طرح خفیہ فنڈز کہ سکتے ہیں۔یہ بات ماننے والی نہیں کہ ایک صحانی کی لاجز بورڈنگ پر ایک لاکھ ستاسی ہزار روپے خرچ ہوئے۔ عدالت نے دوبارہ رپورٹ تےار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی ہے۔