بینظیر قتل کیس‘ مشرف کی 24 اپریل تک ضمانت منظور‘7 روز میں شامل تفتیش ہونے کا حکم

بینظیر قتل کیس‘ مشرف کی 24 اپریل تک ضمانت منظور‘7 روز میں شامل تفتیش ہونے کا حکم

راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے + ایجنسیاں) لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس عبدالسمیع خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سابق صدر پرویز مشرف کی بینظیر قتل کیس میں 24 اپریل تک عبوری ضمانت منظور کر لی۔ سابق صدر سخت ترین سکیورٹی انتظامات میں ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ پہنچے ان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل میں کہا کہ پرویز مشرف صدر کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد اپریل 2009ء تک پاکستان میں مقیم رہے ان پر بینظیر قتل کیس کا الزام نہیں لگا لیکن بعد میں اچانک 2010ء میں ان کو اس کیس میں نامزد کرکے تفتیش ایف آئی اے کو دے دی گئی۔ محترمہ کی شہادت دسمبر 2007ءمیں ہوئی تھی ایف آئی اے مالیاتی امور کی تفتیش کرتی ہے فوجداری کیس کی تفتیش اس کے دائرہ کار میں بھی نہیں آتی اس سے قبل کراچی سے جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنی عبوری ضمانت کرائی تھی انہیں ٹرائل کورٹ میں پیش ہونا ہے ان کی عبوری ضمانت کی درخواست کی جاتی ہے ڈویژن بنچ نے سابق صدر کی 24 اپریل تک عبوری ضمانت منظور کر لی۔ عدالت نے مشرف سے استفسار کیا کہ آپ اتنا عرصہ ملک سے باہر کیوں رہے۔ ٹرائل کورٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا۔ عدالت نے پرویز مشرف کو 7 روز میں تحقیقاتی ادارے کی تفتیش میں شامل ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ پرویز مشرف عدالت میں پہنچ کر اپنی گاڑی میں بیٹھے رہے اس موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت ترین انتظامات تھے سماعت کے بعد جب سابق صدر کمرہ عدالت سے باہر آئے تو وکلاءکے گروپ اور ان کے حامیوں کے درمیاں سخت تصادم اور ہاتھا پائی ہوئی اس سے قبل کمرہ عدالت میں ایک وکیل نے سابق صدر کو اس وقت کرسی مارنے کی کوشش کی جب وہ کمرے سے نکل چکے تھے۔ بے نظیر بھٹو قتل کیس کی سماعت لاہور ہائیکورٹ بنچ میں ہوئی جہاں پر پرویز مشرف کی عبوری ضمانت 24اپریل تک منظور کرلی گئی اور انہیں 5، 5 لاکھ روپے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی پرویز مشرف کی لاہور ہائیکورٹ پنڈی بنچ میں آمد پر سکیورٹی کی غیرمعمولی صورتحال دیکھنے میں آئی تھی پرویز مشرف سماعت سے پہلے اپنی گاڑی میں سکیورٹی کے ساتھ ٹھہرے رہے جب ان کو عدالت سے بلاوا آیا تو اس وقت کمرہ عدالت میں کیس کی سماعت کیلئے حاضر ہوئے۔ اے پی اے کے مطابق عبوری ضمانت کی منظوری کے بعد پرویز مشرف کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ معطل ہو گئے ہیں اب وہ اشتہاری بھی نہیں رہے۔ ہائیکورٹ میں پیشی کے دوران سابق صدر پرویز مشرف وکلاءکے حملے سے ایک بار پھر بچ نکلے مگر مخالفین نے ان کے حامیوں کی پٹائی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ پیشی کے موقع پر مخالف وکلاءکو اپنا غصہ نکالنے کا موقع مل گیا۔ ایک وکیل کی جانب سے ان پر کرسی پھینکنے کی کوشش کی گئی تاہم پرویز مشرف نے جھک کر اور سکیورٹی گارڈ کی آڑ لے کر بچنے کی کوشش کی۔ صورتحال اس وقت گھمبیر ہو گئی جب واقعے کے بعد سابق صدر تو سخت سکیورٹی میں ہائی کورٹ سے بچ نکلے اور ان کے وکیل اور حامی مخالف وکیلوں کے ہتھے چڑھ گئے، وکلاء نے سابق صدر کے کچھ حامیوں کو تو مار مار کر ادھ موا کر دیا اور کچھ صرف مکے اور لاتیں کھانے کے بعد ہی گوشہ نشین ہو گئے اور عدالت میں تعینات پولیس اہلکاروں نے معاملے کو سنبھالا اور سابق صدر کے حامیوں کو بچا لیا۔ پرویز مشرف کی آمد سے قبل ہائیکورٹ کی حدود میں پولیس نے پستول برآمد ہونے پر ایک شخص کو گرفتار کر لیا، پوچھ گچھ کے لئے تھانہ سول لائنز منتقل کر دیا گیا۔ پرویز مشرف نے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں پیشی کے دوران بلٹ پروف جیکٹ پہنی ہوئی تھی وکلاءکی شدید نعرے بازی پر چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ سکیورٹی اہلکاروں کو ڈھال بنا کر عدالت کے اندر داخل اور واپسی پر گاڑی تک پہنچے۔ وکلائ، میڈیا اور سائلین کے لئے نوگوایریا ڈکلیئر کیا گیا تھا سابق صدر نے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ، دہشت گردی یا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے سکیورٹی اداروں کی تجویز پر کپڑوں کے نیچے بلٹ پروف جیکٹ پہنی تھی۔ سابق صدر چاہتے ہوئے بھی کسی وکیل کو نعرے بازی سے روک نہیں سکے۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی نے پرویز مشرف کی عدالت عالیہ میں پیشی کے موقع پر ہائیکورٹ کی حدود کے اندر سابق صدر کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے مطالبے کے بینرز آویزاں کئے تھے، آل پاکستان مسلم لیگ اور وکلاء کے مابین صدر کے حق اور مخالف میں نعرے بازی پر تصادم میں اے پی ایم ایل کا ایک کارکن زخمی ہو گیا، اے پی ایم ایل کے کارکنوں کو وکلاء نے بھاگنے پر مجبور کردیا۔ پرویز مشرف کی جانب سے نومبر 2007ءکو جاری کئے گئے عبوری آئینی حکم کے تحت جس عدالت کو سب سے پہلے تالے لگائے تھے سابق صدر بدھ کو اسی عدالت میں انصاف کے حصول کیلئے پیش ہوئے۔ پرویز مشرف عدالت پیشی کیلئے سڑک کے ذریعے ہائیکورٹ پہنچے سکیورٹی کیلئے ہیلی کاپٹر بھی فضا میں رہا۔ سابق صدر کی آمد سے قبل تین مرتبہ پروگرام سکیورٹی کلیئرنس نہ ہونے پر تبدیل کیا گیا۔ آل پاکستان مسلم لیگ کے کارکنوں اور وکلاءمیں اس وقت تصادم ہو گیا جب کارکن نصراللہ جرال کے ساتھ پرویز مشرف کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ وکلاءاور مشرف کے حامیوں میں تصادم ہو گیا۔ وکلاءنے ایک کارکن کو دبوچ لیا اس کے دانت بھی ٹوٹ گئے تاہم بعد میں بچ بچاﺅ کیلئے لوگ درمیان میں آ گئے۔
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + اے پی اے) سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ الیکشن کے لئے نااہل ہو کر برا لگ رہا ہے مجھے نااہل کرنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی بحیثیت شہری الیکشن لڑنا میرا حق ہے، فیصلے سے مایوسی ہوئی انصاف کہاں ہے؟ چیف الیکشن کمشنر نوٹس لیں یہ کیا ہو رہا ہے، انصاف سب کیلئے یکساں ہونا چاہئے نااہلی کے خلاف سپریم کورٹ جاﺅنگا۔ نجی ٹی وی سے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میرے خلاف تمام مقدمات میری غیر موجودگی میں بنائے گئے سپریم کورٹ میں ٹرائل شروع ہو گا تو دیکھیں گے۔ جانتا تھا کہ مجھ پر کیسز چلیں گے۔ مقابلہ کروں گا۔ زندگی میں کبھی قرض نہیں لیا ٹرائل کے بغیر کسی کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ راولپنڈی میں وکلاءکی طرف سے تشدد کے واقعات کا نوٹس لیا جائے۔ ایسے عناصر کو گرفتار کیا جائے دس قومی اور دو سو کے قریب صوبائی اسمبلیوں کے ٹکٹ دئیے ہیں اے این پی کے رہنماﺅں پر حملوں کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ امیدواروں کو سکیورٹی فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں شاہ عبداللہ سے گارنٹی لینے نہیں عمرہ کرنے گیا تھا۔ اے پی اے کے مطابق پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے کیخلاف آل پاکستان مسلم لیگ کے سینکڑوں کارکنوں اور مقامی قیادت نے سنٹرل سیکرٹریٹ آل پاکستان مسلم لیگ ایف سکس ون سے نیشنل پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی اور نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔