اخباری صنعت کو درپیش مسائل کے حل کیلئے کوششیں کر رہا ہوں: نگران وزیر اطلاعات

اسلام آباد(آئی این پی) نگران وزیر اطلاعات و نشریات عارف نظامی نے کہا ہے کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے‘ غیرجانبدارانہ‘ منصفانہ اور ساکھ رکھنے والے انتخابات کا انعقاد بہت ضروری ہے‘ وزارت اطلاعات میں اصلاحات ہونی چاہئیں‘ اخباری صنعت کو درپیش مسائل کے حل کیلئے کوششیں کررہا ہوں‘ اب کوئی حکومت میڈیا پر قدغن نہیں لگا سکتی۔ 3 مئی ورلڈ پریس فریڈم ڈے کو جشن آزادی صحافت کے طور پر منانا چاہئے۔ اسلام آباد کلب میں اسلام آباد کے ایڈیٹروں کی طرف سے اپنے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عارف نظامی نے کہا کہ نگران حکومت کا کوئی اپنا ایجنڈا نہیں۔ میں نے اس عہدہ کیلئے کوئی لابنگ نہیں کی تھی۔ مجھے جب اس کی اطلاع دی گئی تو اس وقت تک مجھے کوئی یقین نہیں تھا۔ ملک اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے‘ غیرجانبدارانہ‘ منصفانہ اور ساکھ رکھنے والے انتخابات کا انعقاد بہت ضروری ہے۔ الیکشن میں ابھی تک امیدوار اور لوگ حصہ لے رہے ہیں۔ قاتلانہ حملہ کے باوجود غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں۔ میرے لئے بطور حکومتی ترجمان کام کرنے کا یہ نیا مشکل تجربہ ہے کہ میں اپنی سیاسی رائے کا اظہار نہ کروں۔ وزارت اطلاعات میں اصلاحات ہونی چاہئیں۔ انفارمیشن آفیسرز کو فعال اور بہتر تجربہ کار ہونا چاہئے۔ قانون‘ آئین اور وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر مجھ سے جو کچھ ہوسکا میں ضرور کروں گا۔ الیکٹرانک میڈیا کیلئے ضابطہ اخلاق بن چکا ہے۔ اس پر عمل ہونا چاہئے لیکن کوئی حکومت میڈیا پر قدغن لگانے کا نہیں سوچ سکتی۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے میڈیا پر پابندیاں لگانے کے بارے میں ان سے بات کی جائے گی۔ اس سے قبل زاہد ملک نے کہا کہ عارف نظامی پاکستانی صحافت کا بہت بڑا نام ہے۔ ان کی پاکستان میں صحافت کی ترقی کیلئے بہت سی خدمات ہیں۔ انہوں نے وزارت اطلاعات کی ترقی کیلئے اقدامات کی تجویز پیش کی۔ سابق سیکرٹری اطلاعات خواجہ اعجاز سرور‘ اسلام آباد کے اخبارات کے مدیران مہتاب احمد خان‘ خوشنود علی خان اور سردار خان نیازی و دیگر نے بھی عارف نظامی کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ وہ اپنے مختصر دور میں اخباری صنعت کے مسائل حل کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔