پاکستان اور افغانستان میں جاری جنگ یمن اور صومالیہ منتقل ہو سکتی ہے: نیویارک ٹائمز

نیویارک (اے پی اے) امریکی اخبار ”نیویارک ٹائمز“ نے دعوی کیا ہے کہ یمن اور صومالیہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی پر اوباما انتظامیہ کی قانونی ٹیم تقسیم ہو گئی۔ پاکستان اور افغانستان میں جاری جنگ کو یمن اور صومالیہ میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ امریکی اخبار ”نیویارک ٹائمز“ کی رپورٹ کے مطابق یمن اور صومالیہ میں اسلامی عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کے لئے امریکہ کو کس حد تک کارروائی کرنی چاہئے۔
اوباما انتظامیہ اور امریکی کانگریس کے حکام کے مطابق یہ سوال القاعدہ اور اس کے اتحادی عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ کی حدود کا تعین اور وضاحت کر سکتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ بحث اس نکتے پر مرکوز ہے کہ امریکہ عسکریت پسند گروہوں کے اعلی سطحی رہنماﺅں کے خلاف کارروائی کرے جو امریکہ پر حملوں کی سازش میں ملوث ہیں یا مقامی سطح کے نچلے درجے کے تمام عسکریت پسندوں کے خلاف بھی ایکشن لے جو خلیج عدن کے نواح میں غیر قانونی طور پر قابض ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ اور پینٹاگون کے درمیان یہ تنازع ایک ماہ سے جاری ہے اور تاحال ان پر اختلاف موجود ہے۔ موجودہ انتظامی پالیسی یہ ہے کہ علاقے میں صرف ہائی ویلیو افراد کو نشانہ بنایا جائے لیکن اس سوال کا تاحال کوئی جواب نہیں ہے کہ امریکہ یمن اور صومالیہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی کر پائے گا‘ اس کا جواب صرف اسی صورت میں ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ حکمت عملی کو تبدیل کرکے صومالیہ اور یمن کی طرف منتقل کی جائے کیونکہ پاکستان اور افغانستان میں القاعدہ کمزور ہو رہی ہے اسامہ کی ہلاکت اور قبائلی علاقوں میں ڈرونز حملوں سے یہ دن بدن کمزور ہو رہی ہے۔
امریکی اخبار