سینٹ: ملازمتیں نہ ملنے‘ یوٹیلٹی سٹورز پر اشیاء کی عدم دستیابی کیخلاف بلوچستان کے ارکان کا احتجاج

اسلام آباد (وقائع نگار+ ایجنسیاں) سینٹ کے اجلاس میں سرکاری ملازمتوں میں بلوچستان کو نظرانداز کرنے پر بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے شدید احتجاج کیا اور کہاکہ آغاز حقوق بلوچستان ابھی تک ہوا میں معلق ہے اس پر تاحال کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن میں بھرتیوں پر بلوچستان کے لوگوں کو نظرانداز کرنے اور اشیا کی عدم فراہمی و دستیابی پر احتجاج کیا۔ سینیٹر زاہد خان نے کہاکہ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کرپشن کا گڑھ ہے، لوئر دیر میں رمضان کے دوران سبسڈی والی اشیا دستیاب ہی نہیں تھیں۔ سینیٹر اسماعیل بلیدی اور ولی محمد بادینی نے کہاکہ صوبے میں یوٹیلٹی سٹورز پر اجناس دستیاب نہیں ہوئیں جبکہ سامان بھی غیرمعیاری ہوتا ہے۔ وزیر صنعت و پیداوار سردار بہادر خان سہڑ نے کہا کہ یوٹیلٹی سٹورز پر اشیا کو لیبارٹری میں ٹسیٹ کروایا جاتا ہے۔ مزید علاقوں میں سٹور کھولے جائینگے، ایوان نے بجلی کی ترسیل اور تقسیم کا اختیار صوبوں کو دینے کا بل منظور کر لیا۔ یہ تحریک وفاقی وزیر پانی و بجلی سید نوید قمر نے پیش کی 3قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹیں بھی ایوان میں پیش کی گئیں۔ وقفہ سوالات کے دوران وزارت صنعت کی جانب سے ایوان کو غلط اعداد و شمار اور درست معلومات فراہم نہ کرنے پر ارکان نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ متعلقہ افسران کیخلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔ جمعہ کو اےوان بالا کا اجلاس پرےزائےڈنگ آفےسر سینےٹر کاظم خان کی زےر صدارت ڈےڑھ گھنٹے کی تاخےر سے شروع ہوا۔ وزےر مملکت برائے صنعت و پےداوار سردار بہادر خان سےہڑ نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ بلوچستان مےں صارفےن کو ارزاں نرخوں پر اشےاءضرورےہ کی فراہمی کے لےے 264ےوٹےلٹی سٹورز جبکہ فاٹا مےں 47سٹورز قائم ہےں ۔ سینےٹر ولی محمدبادےنی نے کہا کہ بلوچستان مےں ےوٹےلٹی سٹورز کی تعداد کم ہے اسے بڑھاےا جائے۔ سینےٹر صالح شاہ نے اےوان کو بتاےا کہ فاٹا مےں پولےٹےکل اےجنٹ ےوٹےلٹی سٹورز کی فرنچائز دو سے تےن لاکھ روپے مےںفروخت کررہے ہےں۔ سینےٹر اسماعےل بلےدی کے ملازمتوں کے حوالے سے اےک تحرےری سوال کے جواب مےں وزارت کی جانب سے فراہم کئے اعداد وشمار پر سینےٹرز نے سخت احتجاج کےا بلوچستان کے سینےٹرز نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ بلوچستان کے نوکرےوں کے کوٹے کو مسلسل نظر انداز کےا جا رہا ہے۔ انہوں نے آغاز حقوق بلوچستان ابھی تک ہوا مےں معلق ہے اس پر تاحال کوئی عمل درآمد نہےں ہوا ہے ۔ وزےر مملکت کی جانب سے تسلی بخش جواب نہ دےنے پر سنےٹرز نے سخت احتجاج کےا جس پر چےئر نے ملازمتوں کے حوالے سے سوال کو موخر کردےا۔ قائد اےوان نے چےئر کو بتاےا کہ ملازمتوں کے کوٹے کے حوالے سے اےوان بالا کی اےک کمےٹی قائد اےوان کی زےر نگرانی کام کررہی ہے اگر کسی رکن کو کوٹے کے حوالے سے کوئی تحفظا ت ہےں تو وہ اسے اےوان مےں پےش کرے۔ سےنٹ کا اجلاس مےں نماز جمعہ کے وقفے سے قبل سینےٹر ابراہےم نقطہ اعتراض پر کہا کہ حکومت نے کراچی کی صورت حال پر بات نہےں کرنے دی اور آج اجلاس ملتوی کےا جا رہا ہے اس پر دےگر اراکےن نے احتجاج کےا تاہم چےئر نے انہےں بتاےا کہ اجلاس کے ختم کرنے کے کوئی احکامات نہےں ہےں ۔ اجلاس ابھی جاری تھا کہ پرےزائےڈنگ آفےسر نے اجلاس پےر کی شام تک ملتوی کردےا ۔ قبل ازیں سینیٹر زاہد خان نے کہاکہ قبائلی علاقوں (فاٹا) میں یوٹیلٹی سٹورز نہیں کھولے جا رہے اور نہ ہی وہاں سے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن میں بھرتیاں کی جاتی ہیں۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہاکہ 16اشیا پر سبسڈی دی گئی تھی، وزیر مملکت اس بارے میں لاعلم ہیں۔ پریذائیڈنگ آفیسر سینیٹر کاظم خان نے وزیر مملکت برائے صنعت کو ہدایت کی کہ یوٹیلٹی سٹورز میں بعض اشیا کی عدم دستیابی کے بارے میں تحقیقات کی جائیں اور ارکان کو مطمئن کیا جائے۔ قائد ایوان سینیٹر نیئر بخاری نے کہا کہ مختلف وفاقی محکموں میں خلاف ضابطہ بھرتیوں کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ صوبائی کوٹوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔