شمالی وزیرستان آپریشن پر غیرملکی سفیروں کی کڑی نظر، روزانہ رپورٹیں بھجوا رہے ہیں

اسلام آباد (جاوید صدیق) بیرونی ممالک کے سفیر شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کیخلاف آپریشن پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امریکہ، یورپ، چین، جاپان اور دوسرے ملکوں کے سفارتکار شمالی وزیرستان آپریشن کے بارے میں اپنے دارالحکومتوں کو رپورٹیں ارسال کر رہے ہیں۔ امریکہ اور نیٹو ممالک ایک عرصہ سے پاکستان پر دبائو ڈال رہے تھے کہ وہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کی پناہ گاہیں ختم کرے لیکن سابق آرمی چی جنرل اشفاق پرویز کیانی کا مؤقف یہ رہا کہ پاکستان غیرملکی دبائو پر آپریشن نہیں کرے گا بلکہ وہ اپنی ضرورت اور اپنے وقت پر یہ آپریشن کرے گا۔ غیرملکی سفارتخانے اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ شمالی وزیرستان آپریشن کے نتیجے میں غیرملکی دہشت گردوں کی پناہ گاہیں مسمار ہو گئی ہیں اور جن عناصر نے انہیں پناہ دی ہوئی ہے ان کیخلاف کتنا مؤثر آپریشن کیا جائے۔ موجودہ آپریشن کا ایک بنیادی ہدف اسلامک موومنٹ ازبکستان کے جنگجو اور چین سے تعلق رکھنے البترکستان موومنٹ کے عناصر شامل ہیں خصوصی طور پر غیرملکی عناصر پاکستان کے اندر پاکستانی تنصیبات اور ریٹرن کے خلاف کارروائیاں کر سکتے ہیں۔ ازبک، تاجک، چینی افغان اور عرب جنگجو موجودہ آپریشن کا بڑا ہدف رہیں گے۔
آپریشن /گہری نظر