شمالی وزیرستان آپریشن وسط جولائی سے پہلے مکمل کرنے کی کوشش کی جائیگی

اسلام آباد (سہیل عبدالناصر) افغان صدارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ مکمل ہونے کے اگلے ہی روز پاکستان نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف بڑا فوجی آپریشن شروع کیا۔ 14 جون کو افغانستان میں انتخاب کا دوسرا مرحلہ مکمل ہوا تو 15 جون کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اس شورش زدہ ایجنسی میں فوجی کارروائی شروع کئے جانے کا اعلان کیا۔ واضح رہے کہ تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دوران ہی شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے امکانات پر غور شروع ہوگیا تھا اور ساتھ ہی سفارتی ذرائع سے یہ اطلاعات بھی آنی شروع ہوگئی تھیں کہ ہمیشہ سے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے متمنی امریکہ نے خواہش ظاہر کی ہے کہ افغانستان کے صدارتی انتخاب کی مہم شروع ہوچکی اور سردست شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی نہ کی جائے کیونکہ جنگجو وہاں سے فرار ہوکر افغانستان کے اندر داخل ہوئے تو انتخابی مہم اور صدارتی انتخاب متاثر ہوسکتا ہے۔ یہاں موصولہ اطلاعات کے مطابق افغانستان میں موجود امریکی تو آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کے ضمن میں معلومات کا تبادلہ کررہے ہیں لیکن پاکستان کی اپیل پر افغانستان کی طرف سے اسکے صوبہ کنڑ اور نورستان میں موجود پاکستانی شدت پسندوں کیخلاف کسی کارروائی کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔ آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ اگرچہ غیرریاستی شورش پسندوں کیخلاف کارروائی ہے لیکن اس کے ردعمل سے نمٹنے کیلئے وسیع پیمانے پر جو انتظامات کئے گئے ہیں وہ بھارت کے ساتھ جنگوں کے مواقع پر بھی دیکھنے میں نہیں آئے۔ ملک کے تمام بڑے شہروں اور قصبات میں فوج متعین کردی گئی ہے جو سرعت سے دہشت گردی کی کسی بھی کارروائی کیخلاف حرکت میں آسکتی ہے۔ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کیلئے مدت کا تعین نہیں کیا گیا لیکن بتایا جاتا ہے کہ وسط جولائی سے پہلے کارروائی مکمل کرنے کی پوری کوشش کی جائیگی تاکہ ایک طرف تو آپریشن غیر ضروری طور پر طول نہ پکڑے اور دوسری طرف مون سون کے شروع ہونے اور ایجنسی کے پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی سے پہلے دہشت گردی کے ٹھکانوں کا صفایا کردیا جائے۔
آپریشن / وسط جولائی