شدت پسندوں کیخلاف کارروائی میں حکومت، فوج اور اپوزیشن ایک ہی صفحہ پر

اسلام آباد (محمد نواز رضا / وقائع نگار خصوصی) وزیراعظم محمد نواز شریف کو شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع کرنے کا اپنی زندگی کا مشکل ترین فیصلہ کرنے میں جہاں پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی تائید حاصل کرنا پڑی وہاں انہوں نے ماسوائے ایک دو جماعتوں کے تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کی حمایت بھی حاصل کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی قیادت پہلے ہی فوجی آپریشن کی حامی تھی۔ پاکستان تحریک انصاف یوٹرن لینے پر مجبور ہوگئی۔ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان جو طالبان سے مذاکرات کے زبردست حامی ہیں، وہ بدلتی صورتحال میں خاموش ہوگئے ہیں۔ انکی علالت کے باعث کسی کو ان تک رسائی نہیں ہوسکی۔ وزیراعظم سیاسی تنہائی کا شکار نہیں ہوئے، ملکی سیاسی تاریخ میں شدت پسندوں کیخلاف کارروائی میں اس وقت حکومت، اپوزیشن اور فوج ایک ہی ’’صفحہ‘‘ پر کھڑی ہیں۔ جماعت اسلامی نے آپریشن کی حمایت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم محمد نوازشریف کو اپنی سیاسی زندگی کا مشکل ترین فیصلہ کرنے کیلئے پارٹی کے عقابوں او رفاختائوں کو ایک ’’صفحہ‘‘ پر لانے میں خاصی محنت کرنا پڑی۔ پارٹی کے کچھ رہنما طالبان سے الجھنے سے روک رہے تھے لیکن کراچی ائرپورٹ پر حملہ سے وزیراعظم کو مشکل ترین فیصلہ کرنا پڑا۔ فوجی آپریشن کی مانیٹرنگ کیلئے بنائی گئی کمیٹی میں چودھری نثار علی خان کی شمولیت غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔
حکومت / فوج/ اپوزیشن