سینٹ: 133 بجٹ سفارشات منظور‘ مسلح افواج کے شانہ بشانہ لڑیں گے: حکومتی‘ اپوزیشن ارکان

سینٹ: 133 بجٹ سفارشات منظور‘ مسلح افواج کے شانہ بشانہ لڑیں گے: حکومتی‘ اپوزیشن ارکان

اسلام آباد (نامہ نگار، نوائے وقت رپورٹ، ایجنسیاں) سینٹ نے 133بجٹ سفارشات کی منظوری دیکر قومی اسمبلی کو بھجوا دیں، بجٹ سفارشات میں زرعی سیکٹر میں بہتری لانے، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے، ٹیکس نیٹ بڑھانے، ایس آر اوز کلچر ختم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ چیئرمین خزانہ کمیٹی بیگم نسرین جلیل نے کہا ہے قانون سازی کر کے بجٹ کی سینٹ سے منظوری بھی لازمی قرار دی جائے، حکومت ایک لاکھ افراد کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے دعوے کے برعکس صرف 12000 افراد کو شامل کر سکی ہے۔ کمیٹی اراکین کے تحفظات تھے کہ ترقیاتی بجٹ میں پنجاب کو ترجیح دی گئی ہے جبکہ قائد ایوان راجہ ظفرالحق نے یقین دلایا جتنا ممکن ہو سکا حکومت اس رپورٹ سے فائدہ اٹھائے گی۔ اجلاس میں سینٹ خزانہ کمیٹی کے چیئرپرسن نسرین جلیل نے کمیٹی کی بجٹ تجاویز پیش کی جس کو متفقہ طور پر منظور کر کے قومی اسمبلی بھجوا دیا گیا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 25 فیصد اضافہ ہونا چاہیے۔ ہر قسم کی قابل ٹیکس آمدن پر انکم ٹیکس لگایا جائے۔ بینظیر انکم سپورٹ کا ماہانہ وظیفہ 3000 روپے کر دیا جائے۔ گریڈ ایک سے 15 تک میڈیکل الائونس 25 فیصد کیا جائے۔ کنوینس الائونس 10 فیصد کیا جائے، سرکلر ریلوے کراچی کی بحالی کیلئے معقول فنڈز رکھے جائیں۔ بینظیر میٹرو پولیٹن اور میونسپل اضلاع میں ماس ٹرانزٹ پروگرام شروع کیا جائے۔ سالانہ بجٹ ہر سال مارچ میں پیش کر کے اس پر 3 ماہ پارلیمنٹ میں بحث کی جائے۔ پیپلزپارٹی کے رہنما رضا ربانی نے سینٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر وزیرستان آپریشن پر پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے۔ یہ وفاق کی بقا کی جنگ ہے تمام شراکت دار پارلیمنٹ کو بریفنگ دیں۔ آپریشن کا اتنا اہم فیصلہ ہوا لیکن وزیر داخلہ اور وزیر دفاع ایوان میں موجود نہیں۔ بتایا جائے آپریشن کیسے شروع ہوا اور اس وقت کیا صورتحال ہے۔ سینٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے وزیر اعظم کی تقریر پر ردعمل میں کہا اپوزیشن وزیر اعظم کے فیصلے کی تائید کرتی ہے ہم صرف فوج نہیں حکومت کے ساتھ بھی کھڑے ہیں۔ امید ہے حکومت آئی ڈی پیز کیلئے بہتر انتظامات کرے گی۔ سنیٹر حاجی عدیل نے کہا ہمیشہ ملک کے اندر ریاستی رٹ کی حمایت کی ہم نے سوات میں پاکستان کا جھنڈا لہرایا تھا۔ فاٹا کے اندر ترقیاتی کام کرائے جائیں۔ آئی این پی کے مطابق سینٹ میں بجٹ سے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے صرف ایک تجویز پیش کی گئی۔ سنیٹر بیگم نزہت صادق نے کہا وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص رقم بڑھائی جائے۔ نامہ نگار کے مطابق سینٹ میں اپوزیشن ارکان نے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے فیصلے کی حمایت کی جبکہ پارلیمان کو اعتماد میں نہ لینے پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، اپوزیشن کا مؤقف تھا وہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے فیصلے پر حکومت کے ساتھ کھڑی ہے، پوری قوم کو افواج کی پشت پر کھڑے ہونا چاہیے تاکہ یہ جنگ جیتی جا سکے لیکن حکومت ایوان کو اعتماد میں لے اور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے۔ سنیٹر رضا ربانی نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہیں۔ سینٹ کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا جا رہا۔ آپریشن کی معلومات ہمیں ٹی وی چینلز سے مل رہی ہیں، یہ پاکستان کے بقاء کی جنگ ہے۔ وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کو یہاں ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا حکومت ان کیمرہ بریفننگ دے، یہ وقت ہے حکومت تمام سیاسی جماعتوں کو یکجا کرے۔ سنیٹر الیاس بلور نے کہا صوبہ خیبر پی کے وہ فرنٹ لائن صوبہ ہے۔ فوج کراچی، اسلام آباد میں تعینات کی جا رہی ہے تو خیبر پی کے کے اہم علاقوں میں بھی تعینات کی جائے۔ سنیٹر زاہد خان نے اچانک آپریشن کا فیصلہ ہوا۔ آئی ایس پی آر کا بیان پہلے آیا، پھر حکومتی بیان سامنے آیا ہم آپریشن کی حمایت کرتے ہیں۔ وزیر اعظم اور وزیرداخلہ ایوان میں آئین اور آئی ڈی پیز کی بحالی کیلئے اقدامات ہوں گے اسکی وضاحت کریں۔ مشاہد حسین سید نے کہا اس معاملے پر سیاسی بنیادوں سے بالاتر ہو کر کام کرنا ہو گا۔ وفاقی وصوبائی حکومتوں کے درمیان، خاکی ومفتی کے درمیان، میڈیا اور ملٹری کے درمیان ایک ایجنڈا ہونا چاہیے کیسے پاکستان جنگ جیتے۔ سنیٹر حاصل بزنجو نے کہا کہ اس آپریشن کو بہت پہلے ہونا چاہیے تھا۔ حاجی عدیل نے کہا صرف شمالی وزیرستان میں ہی نہیں پورے ملک میں آپریشن کرنا ہو گا۔ قائد حزب اختلاف چودھری اعتزاز احسن نے وزیراعظم کو ایوان میں آنے پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا پوری اپوزیشن وزیراعظم کے آپریشن کے فیصلے کی تائید کرتی ہے۔ ہمیں امید ہے وزیراعظم اور ان کے رفقاء آئی ڈی پیز کے معاملے کو بھی حل کریں گے اور ان کے لیے بہتر انتظامات کیے جائیں گے۔ آن لائن کے مطابق سینٹ میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے فوجی آپریشن کی مکمل حمایت کا اظہار کیا اور کہا مسلح افواج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑیں گے، تاہم مطالبہ کیا آئی ڈی پیز کو سہولت کیلئے خصوصی منصوبہ تیار کیا جائے جبکہ مشاہد حسین سید نے طاہرالقادری سے اپنا پروگرام ملتوی کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا وہ آپریشن میں حکومت کی مدد کریں اور حکومت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر سیاسی قیادت کو اعتماد میں لے۔ وزیراعظم کے مطابق ایوان بالا میں آمد پر ارکان نے ڈیسک بجا کر زبردست خیرمقدم کیا۔ اجلاس ختم ہونے کے بعد وزیراعظم ایوان میں موجود رہے اور ارکان میں گھل مل گئے جبکہ ایوان بالا میں بلوچستان کے اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی کے قتل کے واقعہ کے سوگ میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ مزید برآں سینٹ کی طرف سے بجٹ سفارشات کی منظوری کے بعد ایوان بالا کا اجلاس غیرمعینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔