اسلامی مملکت میں حاجیوں کو لوٹا جا رہا ہے ملزم گرفتار نہیں ہو رہے : سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے حج کرپشن کیس کے عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد کے حوالے سے مقدمہ کی سماعت کے دوران قرار دیا ہے کہ جو شخص اس کیس کی تفتیش میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے آخر اسے گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا جو تفتیش میں روڑے اٹکائے اس کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہونی چاہئے بلکہ اسے آڑے ہاتھوں لیا جانا چاہئے۔ عدالت رکاوٹ کا باعث بننے والے اور غفلت برتنے والے تفتیشی افسروں کے خلاف آئین میں دئیے گئے طریقہ کار کے مطابق سخت کارروائی کرے گی۔ ان کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں گے۔ اسلامی مملکت میں حاجیوں کو لوٹا جا رہا ہے ملزم گرفتار نہیں ہو  رہے۔ عدالت کے 30 مئی کے حکم نامے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سال میں ایک خط لکھا کیا یہ پراگرس ہے؟ اگر حکومت اور تفتیشی ادارے ناکارہ اور مفلوج ہو چکے ہیں تو تحریری طور پر لکھ کر دیں عدالت کو کاغذی کارروائی کر کے نہ ٹالا جائے۔ عدالت حکومت اور ایف آئی اے کی بے بسی کا عالم نوٹ کرے گی۔ بار بار مہلت کے باوجود کچھ نہیں کیا گیا مزید مہلت نہیں دی جا سکتی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ احمد فیض سعودی عرب میں موجود ہے ہر ممکن کوششوں کے باوجود اس کا سراغ نہیں مل سکا جس پر جسٹس جواد نے کہا کہ وہ عدالت میں سچ بولیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ احمد فیض کہاں ہے عدالت کو بتایا جائے کہ ایف آئی اے احمد فیض کو ابھی تک کیوں نہیں پکڑ سکی اگر اسے گرفتار کر کے وطن واپس لایا جائے تو کیا اس سے پاکستان سعودی عرب تعلقات پر اثر پڑتا ہے۔ حاجیوں کا مذاق اڑانا بند کیا جائے کون نہیں جانتا کہ سعودی عرب میں چڑیا کا بچہ بھی کاغذات کے بغیر نہیں رہ سکتا تو احمد فیض کیسے وہاں چھپ کر رہ رہا ہے۔ عدالت کے استفسار پر ڈی جی ایف آئی اے غالب بندے علی شاہ نے بتایا کہ احمد فیض کو سعودی عرب سے واپس لانے کے لئے وزارت خارجہ ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہی۔ مزید سماعت 18 جون تک ملتوی کر دی گئی۔