مقامی قبائلیوں کی حمایت میں کمی کے بعد تحریک طالبان ٹوٹ پھوٹ کا شکار

مقامی قبائلیوں کی حمایت میں کمی کے بعد تحریک طالبان ٹوٹ پھوٹ کا شکار


اسلام آباد (ثناءنیوز) مغربی نشرےاتی ادارے نے دعوی کےا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان مالی وسائل اور مقامی قبائلیوں کی حمایت میں کمی کے بعد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے وسیع قبائلی علاقوں کے ایک چھوٹے سے حصے پر اپنا اثر و رسوخ رکھتی ہے پاکستان نے افغانستان کی سرحد سے ملحقہ ان شورش زدہ قبائلی علاقوں میں ایک لاکھ 20 ہزار فوجی تعینات کر رکھے ہیں اور شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں پاکستان کے اپنے چار ہزار فوجی بھی اب تک مارے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ تحریک طالبان وسیع قبائلی علاقوں کے ایک چھوٹے سے حصے پر اپنا اثر و رسوخ رکھتی ہے، علاقے میں درجنوں ایسے عسکری گروہ وجود میں آ گئے ہیں جن کے اپنے کمانڈرز ہیں اور ہر کسی کا اپنا اپنا ایجنڈا اور وفاداریاں ہیں۔ دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان، شدت پسند تنظیم میں پھوٹ اور حکیم اللہ محسود کی قیادت کو چیلنج کرنے اطلاعات کو متعدد بار رد کر چکے ہیں۔ مبصرین کے خیال میں پاکستانی طالبان کی طرف سے قومی انتخابات کی طرف بڑھنے والی کمزور حکومت کو مذاکرات کی حالیہ پیشکش، اپنی اہمیت منوانے کی ایک کوشش ہے۔ تجزیہ کاروں اور مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ حکیم اللہ محسود کی طرف سے حکومت کے ساتھ بات چیت کی پیشکش خوش آئند ہے۔ ان مذاکرات سے پاکستان کے شورش زدہ علاقے جوکہ افغانستان کی سرحد تک پھیلے ہوئے ہیں ان میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے مذاکرات کے ذریعے حل ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کے زیر اثر علاقوں میں افغان طالبان بھی مبینہ طور پر پناہ لیتے ہیں اور یہی وہ معاملہ جو اکثر اوقات امریکہ اور پاکستان کے درمیان تنازعے کی وجہ بنتا ہے۔ عسکری تجزیہ نگاروں کے خیال میں محسود کے زیر کمان شدت پسندوں کی تعداد ہزاروں میں ہے لیکن اصل تعداد کتنی ہے یہ کوئی نہیں جانتا۔ ان کے خیال میں اب بھی بڑی تعداد میں غیر ملکی شدت پسند حکیم اللہ محسود کے زیر اثر علاقے، شمالی وزیرستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ان غیر ملکی شدت پسندوں میں زیادہ تر کا تعلق ازبکستان اور وسط ایشیا کی دیگر ریاستوں سے ہے۔
طالبان / ٹوٹ پھوٹ