مسلم لیگ ن میں جانے والوں کی وفاداری عرصے سے مشکوک تھی: وٹو


لاہور (اے پی پی) صدر پیپلز پارٹی پنجاب منظور احمد وٹو نے کہا ہے کہ ہمارے چند ایم پی اےز کو ساتھ ملا کر مسلم لیگ (ن) والے بڑے نازاں ہےں یہ تو وہ لوگ ہیں جنکی بدعہدی کی وجہ سے پارٹی انہیں ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ کر چکی تھی۔ پیپلز سیکرٹریٹ میں حاجی خالد محمود اعوان صدر مسلم لیگ (ن) کوٹ عبدالمالک و ممبر پنجاب کونسل مسلم لےگ (ن) اور ان کے سینکڑوں ساتھیوں کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کے حوالہ سے تقریب سے خطاب میں منظور وٹو نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) میں جانے والوں کی پارٹی کے ساتھ وفاداریاں تو عرصہ دراز سے مشکوک تھیں۔ ان لوگوں کی وجہ سے سینٹ الیکشن میں پیپلز پارٹی کے امیدوار اسلم گل ہار گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سینٹ الیکشن کے موقع پر ہی ارکان کا پتہ چل گیا تھا اور پارٹی کی ان پر نظر تھی۔ ان ارکان کی مشکوک وفاداری کی وجہ سے پیپلز پارٹی پہلے ہی متبادل امیدواروں پر غور کر رہی تھی۔ پیپلز پارٹی چھوڑنے والوں نے اپنی سیاسی موت کے پروانے پر دستخط کئے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس نے بھی اپنے ذاتی مفادات کے لئے پیپلز پارٹی سے بے وفائی کی وہ گمنامی کے اندھیروں میں دفن ہو گیا۔ بڑے بڑے نامور لوگوں کو بھی اس غلطی کا خمیازہ آج تک بھگتنا پڑ رہا ہے جبکہ (ن) لیگ میں شامل ہونےوالے ارکان پنجاب اسمبلی تو ان کے مقابل ابھی طفل مکتب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فصلی بٹیروں کے چلے جانے سے پیپلز پارٹی مزید مضبوط ہو گی۔ منظور وٹو نے خالد محمود اعوان کی ساتھےوں سمےت پیپلز پارٹی میں شمولیت کا خےرمقدم کےا۔ خالد محمود اعوان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے جانے کونسا پنجاب بنا دیا ہے ہر طرف چوریاں، ڈاکے، جعلی پولیس مقابلے اور بدامنی کے ڈیرے ہیں۔ منظور وٹو نے کہا کہ شریف برداران صدر آصف علی زرداری کی لاہور آمد سے اس قدر خوفزدہ تھے کہ ان مےں عباس شریف کے انتقال کی تعزیت پر بھی سامنا کرنے کی جرا¿ت نہےں تھی۔
منظور وٹو