پاکستان کی طرف میلان فطری ہے‘ پاکستان کشمیر پر اصولی موقف سے ہٹا تو ہم موقف پر قائم رہ کر راستہ نکالیں گے: علی گیلانی

پاکستان کی طرف میلان فطری ہے‘ پاکستان کشمیر پر اصولی موقف سے ہٹا تو ہم موقف پر قائم رہ کر راستہ نکالیں گے: علی گیلانی

اسلام آباد (ثناءنیوز) کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے چیئر مین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت سے نام نہاد " الحاق"کا معاہدہ کشمیری عوام ، پاکستان اور عالمی برادی کے لئے ناقابل قبول اور غیر قانونی ہے۔جموں کشمیر کے عوام کا فطری میلان پاکستان کی طرف ہے،پاکستان نے ایک عرصہ تک کشمیر کاز کے قابل اعتماد وکیل اور تنازعہ کے فریق کے اعتبار سے کردار ادا کیا ۔ہمارا راستہ بالکل واضح ہے اور ہم اب بھی اپنے اصولی مو¿قف کی روشنی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ اگر حکومت پاکستان اس مو¿قف سے ہٹتی ہے تو ہمارے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کہ اپنے اصولی مو¿قف پرقائم رہتے ہوئے راستہ نکالیں۔وزیر خارجہ حناءربانی کھر کے نام اپنے 13نکاتی خط میں سید علی گیلانی نے موقف اختیار کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کوئی نیا مسئلہ نہیں ، یہ تقسیم ہند کے پروگرام کا حصہ ہے ۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ پاکستان بنیادی ایشوسے ہٹ کر مفادات کی طرف جاتا نظر آتا ہے حالانکہ جموں کشمیر کی آزادی کی جدوجہد مختصر ہوتی ہے یا طویل اصل مسئلہ یہی رہے گا۔انہوں نے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کے عوام اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ اپنی آزادانہ رائے سے کریں گے ۔ بھارت نے اسے دبایا اور پاکستان نے اس پر ا ستقامت دکھائی ۔پاکستان کا نظری طور پر آ ج بھی یہی مو¿ قف ہے اگرچہ عملاً فرار کے کئی راستے اختیار کئے جارہے ہوں۔ علی گیلانی نے کہا کہ بھارت سے نام نہاد " الحاق"کا معاہدہ کشمیری عوام ، پاکستان اور عالمی برادی کے لئے ناقابل قبول اور غیر قانونی ہے۔ مسئلہ کشمیر کا پرامن ، دیرپا اور منصفانہ حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں ریاست جموں کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت کا ملنا ہے ۔انہوں نے موقف اختیار کیا کہ حریت کانفرنس کے دوسرے دھڑے نے لچک دکھا کر عوامی خواہش کے بارے میں تینوں فریقوں کے اتفاق رائے سے کسی متبادل انتظام پر بھی غور کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا لیکن اس اصول پر سمجھوتہ کئے بغیر کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کیا جانا ہے اور یہ فیصلہ ریاستی عوام کے آزادانہ اختیار اور فیصلے پر مبنی ہوگا ۔ یہ فیصلہ ریاست کے عوام اقوام متحدہ کے نمائندوں کی نگرانی میں آزاد اور غیر جانبدارانہ استصواب کے ذریعے کریں گے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 122سال 1957کے مطابق کوئی انتخاب /معاہدہ استصواب کا بدل نہیں ہوسکے گا ۔ 66 سال سے ہر شک و شبہ سے بالا صورت میں ثابت کرچکے ہیںکہ جموں کشمیر کے عوام نے بھارتی تسلط کو نہ قبول کیا اور نہ کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کے عوام کا فطری میلان پاکستان کی طرف ہے لیکن پاکستان کی حکومت نے ایک عرصہ تک کشمیر کاز کے قابل اعتماد وکیل اور تنازعہ کے فریق کے اعتبار سے کردار ادا کیا جس نے جموں کشمیر کے عوام کو حوصلہ بھی دیا اور پاکستان کے لئے جو ان کا دِلی رجحان تھا اسے تقویت بھی بخشی ۔ گزشتہ 10سال سے حکومت پاکستان نے جس طرح پینترے بدلے ہیں ، اصولی مو¿قف سے انحراف کی راہیں تلاش کیں اور Out of the boxکے نام پر اصولی اور مبنی برحق مو¿قف سے فرار کا راستہ اختیار کیا اس نے عوام کو مایوس کیا ۔حریت چیئر مین نے کہا کہ جہاں تک عوام کے حق خودارادیت کے لئے جدوجہد کا تعلق ہے وہ ہر نشیب و فراز کے باوجود مضبوط اور مستحکم ہے اور یہ جدوجہد کامیانی تک جاری رہے گی۔ ان شاءاللہ ۔ پاکستان سے حا ل اور مستقبل کے تعلق کے بارے میں جو دراڑیں پڑی ہیں وہ ایک حقیقت ہیں اور حکومت اور پاکستانی عوام کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ ہم پاکستان سے بھی اپنا تعلق عزت اور نظریاتی ، دینی ، سیاسی ، معاشی اور تہذیبی روایات کی ہم آ ہنگی کی بنیاد پر چاہتے ہیں لیکن اگر حکومت پاکستان اپنے اصولی مو¿ قف سے ہٹ کر کوئی اور راستہ اختیار کرے گی تو اسے جموں کشمیر کے عوام اور سیاسی قیادت سے یہ توقع رکھنے کا جواز نہیں کہ وہ ایسے حالات میں بھی ان کی تائید کرے۔