رحمن ملک کے بیانات : لگتا ہے پاکستان نہیں بھارت کے وزیر داخلہ ہیں: دینی رہنما

 اسلام آباد ( آئی اےن پی ) ملک کی دینی و سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں نے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کی طرف سے بھارت جا کر وہاں سے حافظ سعید کی گرفتاری کا حکم دینے اور سربجیت سنگھ کے اہلخانہ کو اپنا مہمان بنانے سے متعلق بیانات شرمناک ہیں۔ رہنماﺅں نے کہا کہ رحمن ملک پاکستانی نہیں بھارتی وزیر داخلہ کا کر دار ادا کر رہے ہیں، وزیر داخلہ قومی وقار کو مجروح کر کے اپنے ذاتی مفادات کے لئے سر گرم ہیں، بلیک واٹر کے بعد اب وہ پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی ”را “ کا نیٹ ورک قائم کرنا چاہتے ہیں، وہ پاکستان بھارت ویزا معاہدے پر نہیں بھارتی ایجنٹ کی نوکری کے معاہدے پر دستخط کرنے بھارت گئے ہیں، صدر آصف علی زرداری وزیر داخلہ کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کا نوٹس لیں اور انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے ، جمعیت علماءاسلام (ف ) کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد ، جماعت اسلامی کے مر کزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ ،جماعة الدعوة کے مرکزی رہنما حافظ عبدالرحمن مکی اور انصار الامہ کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل اور دیگر رہنماﺅں نے کہا ہے کہ سربجیت سنگھ دہشت گرد ہے ، بھارت نے اجمل قصاب کو پھانسی دے دی جبکہ رحمن ملک سربجیت سنگھ کی رہائی سے متعلق بیانات دے کر اسے ہےرو بنا رہے ہیں، حافظ حسین احمد نے کہا کہ حکومت بھارتی موقف کو تسلیم کر کے کشمیر کاز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہی ہے ، گلگت بلتستان کو الگ صوبہ بنا کر کشمیریوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا، صوبہ بنانے کا مقصد آغا خان ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنا ہے، لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیر داخلہ عبد الرحمان ملک سمیت موجودہ حکومت کے تمام عہدےدار قومی وقار کی بجائے شخصی مفادات کے لئے سیاست کر رہےیں، جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے موجودہ حکمران اہم قومی ایشوز پر فیصلے کرتے وقت پارلیمنٹ کو نظر انداز کرتے چلے آ رہے ہیں۔