متحدہ وفاقی حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ مسلم لیگ ن سے گرین سگنل ملنے کے بعد کرے گی

اسلام آباد (محمد نواز رضا/ وقائع نگار خصوصی) جمعیت علمائے اسلام ف کے حکومتی اتحاد سے الگ ہونے کے بعد حکومتی اتحاد اور اپوزیشن میں شامل جماعتوں کے درمیان رابطوں میں تیزی آگئی ہے اگرچہ جمعیت علمائے اسلام ف نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن ابھی تک جمعیت علمائے اسلام ف نے سینٹ میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ نہیں کیا اس بارے میں جمعیت علمائے اسلام ف نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے ایم کیو ایم نے حکومت کو دس روز کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے لیکن اس دوران ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین‘ جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن‘ مسلم لیگ ہم خیال کے رہنما میاں خورشید قصوری سے فون پر بات کی اور بابر غوری نے مسلم لیگ ن کے رہنما محمد اسحق ڈار سے ٹیلی فون پر ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کی قیادت ملکی سیاسی منظر کی تبدیلی میں مسلم لیگ ن اور ق کے کردار کو اہمیت دے رہی ہے ایم کیو ایم کی قیادت وفاقی حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ مسلم لیگ ن کی طرف سے ”گرین سگنل“ موصول ہونے پر کرے گی۔ الطاف حسین نے مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین سے رابطہ قائم کر کے اس سیاسی منظر میں تبدیلی میں تعاون کرنے پر زور دیا ہے سیاسی حلقوں میں باور کیا جا رہا ہے کہ چودھری شجاعت حسین نے الطاف حسین کو بتایا کہ ان کی جانب سے حکومت کو تعاون کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی اسی طرح مسلم لیگ ہم خیال اور ایم کیو ایم کے درمیان موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک دوسرے سے تعاون پر اتفاق رائے ہوا ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ن کی قیادت کے درمیان پہلے ہی رابطے موجود ہیں بابر غوری اور محمد اسحاق ڈار کے درمیان ہونے والی بات چیت سے میاں نوازشریف کو آگاہ کر دیا گیا ہے نوازشریف ایم کیو ایم کے پیغام پر پارٹی رہنماوں سے اٹھارہ دسمبر کو مشاورت کریں گے ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ن ‘ ق اور جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنماوں کے درمیان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس اور قومی اسمبلی کے 29 ویں سیشن کے درمیان مزید مشاورت ہوگی جس میں آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جائیگا۔