سزا یافتہ شخص کی بھاری مشاہرے پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں تقرری

اسلام آباد (شفق اقبال سے) بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نے حکومت کی روایت برقرار رکھتے ہوئے امریکی عدالت کے سزا یافتہ شخص کو بھاری مشاہرے پر کنسلٹنٹ بھرتی کر لیا۔ اعلیٰ افسران کے حکم پر بی آئی ایس پی انتظامیہ نے مذکورہ آفیسر کو منظر عام پر آئے بغیر کام جاری رکھنے کی ہدایات جاری کر دیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں امریکی عدالت سے سزا یافتہ شخص بصیر چند کو ٹیکنیکل اسسٹنٹ ٹو سوشل سیفٹی سینٹ پروگرام کیلئے کنسلٹنٹ بھرتی کر لیا گیا ہے۔ بصیر چند کو امریکہ میں جعلی شناختی کارڈ استعمال کرنے پر عدالت کی طرف سے 9 نومبر 2007ءکو 78 ماہ قید اور 5 ملین امریکی ڈالر جرمانہ کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ ملٹی ملین ڈالر کریڈٹ کارڈز اور مورٹ گیج فراڈ سکیم میں بھی ملوث رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق انٹر نیشنل ویب سائٹ پر مذکورہ کی تمام تفصیلات موجود ہیں اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نے مذکورہ شخص کو دو لاکھ (30) ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر بھرتی کیا ہے۔ 16 نومبر 2009ءکو اس شخص کو نیشنل پراجیکٹ کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے بھرتی کیا گیا تھا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر 22 نومبر 2009ءکو نوکری سے نکال دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق 15 جولائی 2010ءکو دوبارہ اس شخص کو پروگرام میں بھاری تنخواہ پر بھرتی کر لیا گیا ہے اس بارے میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ترجمان کا موقف جاننے کیلئے پروگرام کی چیئرپرسن فرزانہ راجہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر شعیب سلطان خان سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن رابطہ نہیں ہو سکا۔