پولیس دیانتداری سے کام کرے تو بڑے سے بڑے ملزم کی گرفتاری بھی مشکل نہیں: چیف جسٹس

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ میں قتل سے متعلق مقدمہ کی سماعت میں عدالت نے قتل کے ملزم کی عدم گرفتاری پر اظہار برہمی کرتے ہوئے آئی جی پنجاب پولیس کو ملزم کو گرفتار کر کے 24جولائی تک رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے کہ ملزم زمیندار اور بڑا آدمی ہے اسلئے اسے پکڑا نہیں جا رہا۔ وہ لڑکی مدعی مقدمہ ایوب کی بیٹی تھی وہ غریب لوگ ہیں اس لئے پولیس بھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر پولیس دیانتداری سے کام کرے تو کسی بھی بڑے سے بڑے بااثر ملزم کی گرفتاری مشکل نہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی تو مقدمہ کے تفتیشی آفیسر اور اسلام آباد کے ڈی ایس پی سی آئی اے زبیر شیخ عدالت میں پیش ہوئے۔ پولیس کی طرف عدالت کو بتایا گیا کہ عائشہ بی بی کی ڈیڈ باڈی مل چکی ہے۔ 302کا ایک مقدمہ جھنگ اور ایک اسلام آباد میں درج کیا گیا ملزم کے بارے میں مخبر اطلاعات دیتے رہتے جب اس کی گرفتاری کے لئے جھنگ جاتے تو پنجاب پولیس والے ملزم کو اطلاع دے کر اسے فرار کروا دیتے۔ عدالت ڈی پی او جھنگ کو وفاقی پولیس سے معاونت کی ہدایت جاری کرے۔