عدلیہ بحالی تحریک میں سڑکوں پر آ کر کسی نے جوڈیشری پر احسان نہیں کیا: جسٹس جواد

عدلیہ بحالی تحریک میں سڑکوں پر آ کر کسی نے جوڈیشری پر احسان نہیں کیا: جسٹس جواد

اسلام آباد ( نمائندہ نوائے وقت ) سپریم کورٹ میں غیر قانونی سرکاری رہائش گاہ الاٹ کرنے سے متعلق توہین عدالت کیس کی سماعت 2 ہفتے کے لیے ملتوی کر دی گئی جسٹس جواد ایس خواجہ نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ ہمارے لیے تمام سرکاری آفیسرز قابل احترام ہیں مگر یہ حرکتیں انہیں زیب نہیں دیتیں ایک بار سرکاری رہائش کی الاٹمنٹ کے بعد یہ تصور نہیں ہونا چاہئے کہ اب اسے چھوڑنا ہی نہیں عدلیہ بحالی تحریک میں سڑکوں پرآکر کسی نے جوڈیشنری پر احسان نہیں کیا۔ تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی تو غیر قانونی رہائش گاہ الاٹ کروانے اور توہین عدالت کے مرتکب فیصل بٹ اور ان کے وکیل چودھری اشرف گجر عدالت میں پیش ہوئے اشرف گجر نے عدالت کو بتایا کہ میرے م¶کل نے غیرمشروط طورپر مکان خالی کر دیا ہے سٹیٹ آفس والوں نے عدالت کو گمراہ کرتے ہوئے غلط رپورٹ دی۔ میرے م¶کل نے عدلیہ بحالی تحریک میں قربانیوں اور جدوجہد کا حوالہ دیا ہے اگر عدالت نے اسے مناسب خیال نہیں کیا تو وہ اس کے لیے معافی کے خواست گار ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ معافی نہیں مانگی یہ کہا جارہا ہے کہ لانگ مارچ کیا یہ تو احسان جتانے اور صلہ مانگنے والی بات ہو گئی۔