روزانہ تیس چالیس کوہ پیما واپس جا رہے ہیں‘ انسداد دہشت گردی کا ادارہ بنایا جائے : قائمہ کمیٹی

اسلام آباد (بی بی سی اردو ڈاٹ کام+ این این آئی) سینٹ کی خارجہ امور سے متعلق قائمہ کمیٹی نے ملک میں موجود غیرملکیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے حکومت سے قومی ادارہ برائے انسدادِ دہشت گردی کو فوری قیام عمل میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔کمیٹی کا کہنا ہے اس ضمن میں عملی اقدامات نہ کئے گئے تو پھر ملک میں نہ غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی اور نہ ہی سیاح یہاں کا رخ کریں گے۔کمیٹی کے ارکان کا کہنا ہے چین نے متعدد بار شکایت کی ہے پاکستان کے شمالی علاقوں میں کچھ شدت پسند آباد ہیں جو چین میں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں لیکن حکومت نے اس بارے میں کوئی عملی اقدامات نہیں کئے۔ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر حاجی عدیل کی سربراہی میں ہوا جس میں نانگا پربت پر غیر ملکی کوہ پیماو¿ں کے قتل کے واقعہ سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ گلگت بلتستان پولیس کے سابق سربراہ کیپٹن ریٹائرڈ عثمان زکریا نے کمیٹی کو بتایا کوہ پیماو¿ں کے لئے ناگا پربت جانے سے پہلے مقامی پولیس کو مطلع کرنے سے متعلق کوئی شرط نہیں رکھی گئی۔ انھوں نے کہا کسی بھی کوہ پیما کے ساتھ پولیس اہلکار تعینات نہیں کئے جاتے اور گزشتہ ماہ پیش آنے والے واقعے میں غیر ملکی کوہ پیماو¿ں کے ساتھ پولیس اہلکار بھی ہوتے تو وہ بھی ہلاک ہو جاتے۔ ا±نھوں نے کہا غیرملکی سیاحوں کے قتل میں مقامی شدت پسند شامل ہیں جبکہ باہر سے آ کر کسی بھی شدت پسند کے لیے کارروائی کرنا ممکن نہیں۔ سابق آئی جی نے کہا مقامی شدت پسندوں میں سے دس کا تعلق دیا میرسے، تین کا کوہستان سے جبکہ دو کا تعلق مانسہرہ سے ہے۔ چیف سیکرٹری گلگت بلتستان نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا حملے کی ہدایت کالعدم تنظیم تحریک طالبان نے دی تھی اور یہ حملہ طالبان کمانڈر ولی الرحمن اور پاکستان میں جاری ڈرون حملوں کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا۔ آئی این پی کے مطابق قائمہ کمیٹی نے نانگا پربت میں غیرملکی سیاحوں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا سکیورٹی ادارے امن و امان قائم کرنے میںناکام ہو چکے ہیں، سابق آئی جی پولیس گلگت بلتستان نے بتایا پولیس کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ دہشت گردوں کا مقابلہ کر سکے۔ کمیٹی نے اگست میں گلگت بلتستان کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا جس کا مقصد وہاں کے مکینوں کے ساتھ اظہار یکجہتی ہے۔ این این آئی کے مطابق قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا گلگت بلتستان سے روزانہ 30سے چالیس کوہ پیما واپس جا رہے ہیں۔ سابق آئی جی گلگت بلتستان نے کہا کہ واقعے کے فوراً بعد آئی جی اور چیف سیکرٹری کو ہٹانا نامناسب رویہ ہے۔ فرحت اللہ بابر نے کہا یہ فیصلہ کسی ایک فرد نے اپنی ذاتی مشہوری کے لئے کیا۔ ایسے فیصلے مقامی پولیس اور انتظامیہ کو بددل کر سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر برائے امور کشمیر برجیس طاہر نے کہا ٹرانسفر کا فیصلہ ان کا تھا اور نہ ہی اس معاملے پر ان سے کسی قسم کی مشاورت کی گئی۔ ثنا نیوز کے مطابق بریفنگ کے دوران انکشاف کیا گیا سانحہ نانگا پربت کی اطلاع پاکستانی اداروں سے چھ گھنٹے قبل چین کو مل گئی تھی۔ کمیٹی نے اس سانحہ کے حوالے سے وزیراعظم محمد نواز شریف کو گلگت بلتستان کونسل کا اجلاس طلب کرنے کی سفارش کی ہے کمیٹی کے ارکان نے اگست کے تیسرے ہفتے میں گلگت بلتستان کے دورے کا فیصلہ بھی کیا ہے وزارت داخلہ کے حکام اور چیف سیکرٹری گلگت بلتستان نے اعترا ف کیا نانگا پربت کے متعلقہ بیس کیمپ پر سیکورٹی کے انتظامات نہیں تھے کسی کے تصور میں بھی نہیں تھا اس علاقے میں دہشتگردی کا واقعہ رونما ہو سکتا ہے۔کمیٹی کو آگاہ کیا گیا چینی کوہ پیما کے ہمراہ چینی ٹور آپریٹر کے نمائندے نے سانحہ کی رات ساڑھے بارہ بجے اپنے ٹور آپریٹر کو اطلاع دیدی تھی جبکہ ہمارے اداروں کو صبح چھ بجے اطلاع ملی اور آٹھ بجکر بیس منٹ پو متعلقہ فورس کمانڈر ہیلی کاپٹر کے ذریعے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے۔ برجیس طاہر نے کہا کہ وہ وزیر داخلہ سے آئی جی اور چیف سیکرٹری کو ہٹانے کی وجوہ معلوم کریں گے اور کمیٹی کو آگاہ کر دینگے۔