آئین میں آرڈیننس کے ذریعے ٹیکس نافذ کرنے پر کوئی پابندی نہیں: اٹارنی جنرل

اسلام آباد ( نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے لیوی ٹیکس نافذ کرنے کے حوالے سے مقدمہ میں درخواست گذار کو نئی درخواست دائر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مقدمے کی مزےد سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کر دی ہے اورکہا ہے کہ آئینی درخواست میں نامناسب زبان استعمال کی گئی ہے جس کی موجودہ حالت میں سماعت ممکن نہیں۔ جسٹس افتخارمحمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ یادرہے کہ گذشتہ حکومت نے 2009ءمےںکاربن ٹیکس نافذ کیا تھا جو پٹیشن دائر ہونے پر سپرےم کورٹ نے ختم کردیاتھا، تاہم عدالتی فیصلہ کے بعد حکومت نے آرڈیننس کے ذریعے اسی ٹیکس کو لیوی ٹیکس کے نئے نام سے نافذ کیا جس کیخلاف اےک درخواست گذار شاہد اورکزئی نے عدالت مےں درخواست دائر کی۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسارکیاکہ وہ لیوی ٹیکس آرڈیننس کے بارے میں رائے دیں کہ یہ درست ہے یا غلط جس پر اٹارنی جنرل منیراے ملک نے کہا کہ آئین میں آرڈیننس کے ذریعے ٹیکس نافذ کرنے پر کوئی قدغن نہیں۔ درخواست گذار شاہد اورکزئی نے کہا کہ جب اسمبلیاں تحلیل ہوئی تھیں اس وقت لیوی ٹیکس آرڈیننس کو آئین کا حصہ بنایا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لیوی ٹیکس صدر مملکت نے نافذ کیا لیکن درخواست میں ارکان پارلیمنٹ کو فرےق بناےا گےا ہے اور نامناسب الفاظ کئے گئے ہیں حالانکہ لوگ لاکھوں ووٹ دے کرارکان پارلیمنٹ کو منتخب کرتے ہیں اسلئے ترامےم کے بعد نئی درخواست دائرکی جائے۔