قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم نے آئل ریفائنریوں اور مارکیٹنگ کمپنیوں سے 5 سال کے منافع کا ریکارڈ طلب کرلیا

اسلام آباد (خبر نگار) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم و قدرتی وسائل نے آئل ریفائنریوں اور مارکیٹنگ کمپنیوں کے گزشتہ پانچ سالوں کے منافع کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے وزارت پٹرولیم وقدرتی وسائل کو ہدایت کی ہے کہ گذشتہ 10 سالوں کے دوران وزارت میں کئے گئے اہم فیصلوں پر عملدرآمد کی شق وار رپورٹ کمیٹی کو ایک ہفتے میں پیش کی جائے جبکہ مشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین نے کمیٹی کو بتایا کہ پٹرولیم کی قیمتوں کے تعین کے فارمولے کا اعلان آج کر دیا جائے گا، کاربن سرچارج وزارت خزانہ نے لگایا تھا، اگر مزید گیس کا بروقت انتظام نہ کیا گیا تو گیس کی لوڈشیڈنگ بڑھ کر 4 ماہ ہو جائے گی، ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے حوالے صوبوں کی رائلٹی اور دیگر امور پارلیمنٹ طے کرے گی اور یہ معاہدہ پارلیمنٹ میں پیش کیاجائے گا۔ کمیٹی کا پہلا باضابطہ اجلاس بدھ کو کو پارلیمنٹ ہائوس میں چیئرمین احسان اللہ ریکی کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان شیخ آفتاب احمد، نواب محمد یوسف تالپور، چوہدری محمد برجیس طاہر، محمد عثمان ایڈووکیٹ، سید حیدر علی شاہ، میاں عبدالحق عرف میاں مٹھا، سید عنایت علی شاہ، جمشیداحمد دستی، وزیراعظم کے مشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین اور وفاقی سیکرٹری پٹرولیم وقدرتی وسائل محمود سلیم محمود سمیت متعلقہ اداروں کے دیگر اعلیٰ سرکاری افسروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری وزارت پٹرولیم وقدرتی وسائل محمود سلیم نے وزارت اور اس کے ذیلی اداروں کے بنیادی ڈھانچے، اغراض ومقاصد اور کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزارت ملک کی توانائی کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر گیس اور پٹرول کے نئے ذخائر کی دریافت اور ان کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرتی ہے۔ پٹرولیم کی مصنوعات کی مارکیٹنگ اور عوام تک ترسیل بھی وزارت کی ذمہ داری ہے۔ قائمہ کمیٹی نے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کم کرنے کی سفارش کر دی مشیر پٹرولیم کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سبسڈی برداشت کر سکتی ہے تو لیوی کم کی جا سکتی ہے۔