مسیحی جوڑے کو جلانے کا ازخود نوٹس : کیسے ممکن ہے پولیس کے پاس اسلحہ ہو اور وہ ہڈیاں تڑوا کر آ جائے : جسٹس گلزار

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + ایجنسیاں) سپریم کورٹ میں کوٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت میں عدالت نے پولیس کی رپورٹ مسترد کردی اور آئندہ سماعت پر آئی جی، سابق ڈی پی او قصور،چوکی انچارج اے ایس آئی، کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 29جنوری تک ملتوی کردی ہے۔ آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کی گئی ہے کہ وہ بتائیں کہ غفلت کے مرتکب پولیس اہلکاروں اور افسروں کے خلاف کےا ایکشن لےا گےا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس رپورٹ تضادات کا مجموعہ ہے، واقعہ کے وقت پولیس موجود تھی جس نے ہوائی فائرنگ تک کی زحمت نہیں کی نااہل پولیس افسروں کے خلاف کارروائی کے بجائے اعلیٰ عہدوں پر تعنےات کےا جارہا ہے، جسٹس گلزار نے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے واقعہ کے وقت پولیس کے پاس اسلحہ بھی موجود ہو اور وہ ہڈےاں تڑوا کر واپس آجائے کےا وہ عام شہریوں کے بجائے خطرناک مجرموں کا ہجوم تھا جس پر پولیس قابو نہ پاسکی؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتاےا کہ مرنے والوں کے لواحقین کو معاوضہ اداکر دیا گیا ہے۔ واقعہ کے ذمہ دار 2مولویوں کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ ایک مولوی جو واقعہ کا مرکزی کردار ہے کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جاسکا اور مجموعی طور پر 76افرادگرفتار کیے جاچکے ہیں چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیس کے کتنے گواہ ہیں اور ان کو کیا تحفظ فراہم کیا گیا ہے؟ پولیس حکام نے بتایا کہ 4گواہ مقتولین کے رشتہ دار ہیں اور 5پولیس اہلکار بھی گواہ ہیں۔ عدالت نے تحقیقاتی افسر کو ہدایت کی ہے وہ پولیس اور بھٹہ مالک کے درمیان موبائل پر ہونے والی گفتگو اور پیغامات کے تبادلہ کا ریکارڈ عدالت میں پیش کریں۔ قصور کے ڈی پی او رائے بابر سعید نے اعتراف کیا کہ واقعہ کے وقت 5پولیس اہلکار موجود تھے انکے پاس اسلحہ بھی تھا لیکن انہوں نے ہوائی فائرنگ تک نہیں کی ڈی پی او کا کہنا تھا کہ 5پو لیس اہلکار ان 500افراد کے سامنے کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ جس پر جسٹس گلزار احمد نے بر ہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھٹہ مالک نے پولیس کو ایک دن قبل آگاہ کر دیا تھا لیکن کوئی اقدام نہیں کےا گےا۔ لاہور اور اس سے ملحقہ علاقوں جن میں ایسے متعدد واقعات ہوتے ہیں۔ لیکن نوٹس نہیں لیا جاتا پولیس افسر اپنے گھروں مےں بیٹھے رہتے ہیں۔ ڈی پی اونے عدالت کو بتاےا کہ بھٹہ مالک محمد یوسف نے بیان میں کہا ہے کہ چوکی کے انچارج اے ایس آئیعبدالرشید نے اسے واقعہ سے ایک روز قبل اینٹوں کی خریداری کے لیے فون کیا تھا کیس اطلاع کےلئے نہیں جبکہ واقعہ کے وقت وہ بھٹہ پر موجود نہ تھا جس پرجسٹس گلزار نے کہا کہ واقعہ کے وقت بہت کم افراد مو قع پر موجود تھے لیکن بعد میں لوگوں کی تعداد میںاضافہ ہو گیا اگر بھٹہ بند تھا تو اس میں آگ کیسے جل رہی تھی ؟ اتنے لوگ بھٹہ پر اکھٹے ہوئے اور اسے علم تک نہ ہوا اس وقت کے ڈی پی او کون تھے؟ ان کو عدالت میں جواب دینا پڑے گا۔ موجودہ ڈی پی او قصور رائے بابر سعید نے کہا کہ اس وقت جواد قمر ڈی پی او تھے جنہیں 7.35منٹس پر اطلاع دی گئی جبکہ پولیس وہاں 7.40 پر پہنچی وہ دس محرم کی صبح تھی زےادہ تر پولیس اہلکار سیکورٹی کی ڈیوٹی پر تھے، اب سابق ڈی پی جواد قمر وہ انسداد دہشتگردی کے محکمہ میں تعینات ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ایسا افسر جو ایک جوڑے کو نہیں بچا سکا وہ انسداد دہشتگردی کی روک تھام میں کارکردگی کا مظاہرہ کیسے کرے گا؟ جسٹس گلزار نے کہا کہ آئے روز اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں مگر پولیس خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملہ حل کرنے کی کوشش پر انہیںمار پڑی، یہ کیسی پولیس ہے کہ بندوقیں ہاتھ میں ہونے کے باوجود لوگوں سے مار کھاتی ہے۔
ازخود نوٹس